سعودی عرب: القاعدہ کی حمایت پر خواتین کو سزائیں

سعودی عرب: فائل فوٹو
Image caption سعودی عرب میں حالیہ دنوں میں متعدد پر بار سخت سزائیں سنائی گئی ہیں

سعودی عرب میں چار خواتین کو القاعدہ کی حمایت اور اپنے بیٹوں کو جہاد کے لیے تیار کرنے کے جرم میں چھ سے دس سال کی قید کی سزا دی گئی ہے۔

سعودی میڈیا کے مطابق خِواتین پر بلاک کی گئی انٹرنیٹ سائٹس تک رسائی اور جہاد سے متعلق آڈیو ویڈیو مواد ڈاؤن لوڈ کرنے کا بھی الزام تھا۔

سعودی عرب نے شہریوں کی جہادی گروہوں میں شمولیت کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے ایسا کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں رکھی ہیں۔

جو شہری دوسرے ممالک میں لڑنے کے لیے جائیں گے انھیں بیس سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

سعودی انتظامیہ نے 2011 میں القاعدہ سے تعلق رکھنے یا 2003 اور 2006 کے درمیان ملک میں پرتشدد حملے کرنے میں مبینہ طور پر ملوث سعودی اور غیر ملکی باشندوں کو سزائیں دینے کے لیے خصوصی ٹرائبیونل بنائے تھے۔

ملک کے سب سے بڑے مذہبی عالم نے بھی نوجوان مسلمانوں کو کہا ہے کہ وہ جہاد کے پیغام سے متاثر نہ ہوں۔

سعودی میڈیا کے مطابق اگست میں ملک کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز الشیخ نے القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ کے جہادیوں کو ’اول درجے کے دشمن‘ کہا تھا۔

حالیہ سزائیں اس وقت سنائی گئی ہیں جب سعودی عرب اور اس کے ہمسایہ ممالک شام میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف امریکی سربراہی والے فضائی حملوں میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں