نیویارک میں ایبولا کے پہلے مریض کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹر سپنسر کو نیویارک کے بیل ویو ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے

امریکی شہر نیویارک میں حکام کا کہنا ہے کہ حال ہی میں مغربی افریقی ملک گنی کا سفر کرنے والے ایک ڈاکٹر کے ایبولا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

متاثرہ ڈاکٹر کریگ سپینسر امدادی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئیرز (ایم ایس ایف) کے لیے کام کرتے ہیں اور ان کی طبعیت جمعرات کو خراب ہوئی۔

امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں ایبولا کا یہ پہلا معاملہ ہے۔

یہ مہلک وائرس رواں برس مارچ سے اب تک دنیا بھر میں 4800 سے زیادہ افراد کو اپنا شکار بنا چکا ہے اور مرنے والوں کی زیادہ تعداد کا تعلق مغربی افریقی ممالک لائبیریا، گنی اور سیئرالیون سے تھا۔

طبی حکام کے مطابق ڈاکٹر سپنسر جمعرات کو بخار اور اسہال کا شکار ہوئے اور انھیں کروائے جانے کے فوری بعد دیگر مریضوں سے الگ کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption افریقی ملک مالی میں بھی ایبولا کے پہلے مریض کی تصدیق کی گئی ہے

محکمۂ صحت کے حکام اب نیویارک میں ان سے رابطے میں رہنے والے افراد کی تلاش کر رہے ہیں تاکہ یہ تصدیق کی جا سکے کہ کوئی اور شخص تو ڈاکٹر سپنسر کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا تو نہیں ہوا۔

طبی ماہرین کے مطابق ایبولا کے مریض سے بیماری اسی وقت دوسرے شخص کو لگ سکتی ہے جب اس میں ایبولا کی علامات واضح ہوں اور یہ مرض جسمانی رطوبتوں سے ہی پھیل سکتا ہے۔

ادھر جمعرات کو افریقی ملک مالی میں بھی ایبولا کے پہلے مریض کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ مریضہ ایک دو سالہ بچی ہے جو حال ہی میں گنی سے مالی آئی تھی۔

ڈاکٹر کریگ سپینسر امریکہ میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے چوتھے شخص ہیں۔

امریکہ میں ایبولا کے پہلے مریض کا تعلق ریاست ٹیکسس کے شہر ڈیلس سے تھا اور یہ شخص بیماری ظاہر ہونے سے قبل لائبیریا سے ڈیلس آیا تھا اور آٹھ اکتوبر کو انتقال کر گیا تھا۔

اس کے بعد مذکورہ شخص کا علاج کرنے والی دو نرسوں میں بھی اس وائرس کی تصدیق ہوئی اور ان دونوں کا علاج جاری ہے۔

عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) بدھ کو جنیوا میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کر رہا ہے جس میں ان کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا جو ایبولا کے وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ ان اقدامات میں سفری پابندیاں اور مسافروں کی سکریننگ بھی شامل ہے۔

یہ وائرس مغربی افریقہ میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

امریکہ میں نئے قوانین کے مطابق لائبیریا، گنی اور سیئرالیون سے آنے والے مسافر صرف پانچ امریکی ہوائی اڈوں پر ہی اتر سکتے ہیں۔

دریں اثنا سیئرالیون کے ایک شہر میں کرفیو لگا دیا گیا ہے جہاں منگل کو ہونے والے تشدد کے واقعات میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ایبولا کی وبا کی وجہ سے اب تک ساڑھے چار ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ کا تعلق گنی، لائبیریا اور سیئرالیون سے ہے۔

ڈبلیو ایچ او پر تنقید کی جا رہی ہے کہ اس نے وبا سے نمٹنے کے لیے بہت سست روی سے کام لیا ہے۔

جینیوا میں بی بی سی کی نامہ نگار اموجن فولکس کے مطابق ایبولا کے خلاف بنائی جانے والی پہلی تجرباتی ویکسین بھی سوئٹزرلینڈ پہنچ رہی ہے۔

تاہم نامہ نگار کے مطابق ایبولا کے لیے مکمل طور پر منظور کی گئی ویکسین کی دستیابی میں ابھی کئی ماہ یا شاید سال لگ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈبلیو ایچ او پر تنقید کی جا رہی ہے کہ اس نے وبا سے نمٹنے کے لیے بہت سست روی سے کام لیا ہے

ایبولا سے زیادہ متاثرہ تین ممالک سے امریکہ آنے والے مسافر اب شکاگو کے اوہیئر، جے ایف کے، نیوآرک، واشنگٹن کے ڈلس اور اٹلانٹا کے ہوائی اڈوں پر ہی اتر سکتے ہیں جہاں انھیں مکمل سکریننگ کے عمل سے گزرنا ہو گا۔

یہ نئے اقدامات امریکہ میں وبا کے متعلق عوامی تشویش کے بعد کیے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ میں تین افراد ایبولا سے متاثر ہیں جبکہ ایک اس وائرس سے ہلاک ہو چکا ہے۔

یہ احتیاطی تدابیر سفر پر مکمل پابندی کی اس تجویز سے ذرا کم ہیں جس کا مطالبہ امریکی کانگریس کے کچھ اراکین نے کیا تھا۔

امریکہ کی داخلی سکیورٹی کے وزیر جے جونسن نے کہا ہے کہ حکام فضائی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ کم از کم سفری رکاوٹیں پیش آئیں۔

لائبیریا، سیئرالیون اور گنی سے امریکہ کے لیے براہ راست پروازیں نہیں آتیں، لیکن جونسن کا کہنا ہے کہ حکام ایسے افراد کی شناخت کی کوشش کر رہے ہیں جنھوں نے گذشتہ 21 دنوں میں ان ممالک کا سفر کیا ہو۔

اسی بارے میں