کلہاڑی سے حملہ: اسلامی روابط پر تفتیش

نیو یارک
Image caption نیو یارک میں پولیس والوں پر حملہ کرنے والے شخص کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ شدت پسندانہ خیالات کا حامل تھا

نیو یارک میں پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ دو پولیس افسروں پر کلہاڑی سے حملہ کرنے والے شخص کا کہیں اسلامی شدت پسند عناصر سے تعلق تو نہیں تھا۔

اس شخص کو بعد میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

جمعرات کو کوینز برو میں ہونے والے حملے میں ایک پولیس افسر شدید زخمی ہو گیا تھا۔ اس کے سر پر شدید چوٹ آئی تھی۔

کمشنر ولیم بریٹن کہتے ہیں کہ پولیس حملے کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن دہشت گردی کو بھی رد نہیں کیا گیا۔

امریکی میڈیا نے حملہ آور کو 32 سالہ زیل ٹامسن بتایا ہے لیکن پولیس نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

سائٹ مانیٹرنگ گروپ نے کہا ہے کہ اس شخص نے یو ٹیوب اور فیس بک پر ایسے بیانات پوسٹ کیے تھے: ’جن کے مذہبی اور تاریخی سیاق و سباق کا مرکز بھی زیادہ نسل پرستی ہی تھی اور جو اس کی انتہا پسندی کی طرف جھکاؤ کی طرف اشارہ کرتے تھے۔‘

انتہا پسند اسلامی گروہوں کو مانیٹر کرنے والی اس ویب سائٹ کہنا ہے کہ اس شخص نے ستمبر میں ایک پوسٹ کی تھی جس میں اس نے جہاد کو ’صیہونیوں اور صلیبی جنگ کرنے والوں کے ظلم و جبر کے خلاف جائز ردِعمل‘ کہا تھا۔

جمعرات کو حملے کے بعد ولیم بریٹن سے پوچھا گیا تھا کہ کیا حملے کا تعلق دہشت گردی سے تھا، تو ان کا کہنا تھا کہ ’اتنی جلدی ہم اس سوال کا کوئی ہاں یا نہیں میں جواب نہیں دے سکتے۔‘

ایک عینی شاہد کے مطابق ایک شخص نے ’جان بوجھ کر پیدل چلنے والے پولیس والوں کو نشانہ بنایا، ان کا پیچھا کیا اور دونوں ہاتھوں میں کلہاڑی لہراتا رہا۔‘

ایک پولیس والے کے سر پر زخم آیا جبکہ دوسرے کے بازو پر چوٹ لگی۔

اس کے بعد پولیس والوں نے کئی گولیاں چلائیں جس سے حملہ آور ہلاک ہو گیا اور وہاں موجود ایک راہگیر عورت زخمی ہو گئی۔

اسی بارے میں