والدین کا تعلیم سے متعلق قانون سازی کے خلاف احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مظاہرین سب کے لیے مفت و معیاری تعلیم اور ملک میں نجی سکولوں اور یونیورسٹیوں کے نظام کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے

لاطینی امریکہ کے ملک چلی میں ہزاروں والدین نے دارالحکومت سینٹیاگو میں تعلیم سے متعلق مجوزہ قانون سازی کے خلاف احتجاجی مارچ کیا ہے۔

ان والدین کا دعویٰ ہے کہ نئی قانونی سازی کے تحت تقربیاً 4000 سرکاری سکول بند کر دیے جائیں گے۔

چلی کی حکومت کا کہنا ہے کہ مجوزہ تبدیلیاں اس لیے لائیں جا رہی ہیں تاکہ سرکاری خزانے سے چندہ حاصل کرنے والے سکولوں کو منافع کمانے سے روکا جا سکے۔

مظاہرین سب کے لیے مفت و معیاری تعلیم اور ملک میں نجی سکولوں اور یونیورسٹیوں کے نظام کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

سینٹیاگو میں بی بی سی کے نامہ نگار گیڈیون لانگ کے مطابق ملک کے صدر میشل بایخلیٹ نے تعلیم کے شعبے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانے والے اس بل کو کانگریس میں بھیج دیا ہے۔

اس میں اس کی وضاحت دینی کی کوشش کی گئی ہے کہ نئی قانون سازی کے تحت اصلاحات سے حکومت کے چندے سے چلنی والے سکول بند نہیں کیے جائیں گے بلکہ اس کا مقصد سرکاری رقم خرچ ہونے کے حوالے سے شفافیت لانا ہے۔

لیکن والدین کا کہنا ہے کہ اس بل سے وہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہو جائیں گے جہاں پر تعلیمی معیار بہت خراب ہے اور یا پھر وہ اپنے بچوں کو نجی سکولوں میں بھیجیں گے جس کا خرچہ ان کی برداشت سے باہر ہے۔

چلی میں یہ احتجاجی مارچ بچوں کے والدین اور سرپرستوں کی تنظیم کنفیڈریشن آف پیرنٹس اینڈ گارڈیئنز یا کنفیپا نے نکالا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مالی معاونت سے چلنے والے بہت سے سکول بند ہو جائیں گے کیونکہ وہ طلبا سے فیس کے طور پر اضافی رقم نہیں لے سکیں گے۔

تنظیم کی صدر اریکا میونوز نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم تعلیم کے شعبے میں منافع خوری کے خلاف کارروائی تجویز کرتے ہیں لیکن ہمارے بچوں کے لیے دی جانے والی مالی معاونت ختم نہیں ہونی چاہیے۔‘

اسی بارے میں