31 فوجی ہلاک، صحرائے سینا میں ہنگامی حالت کا نفاذ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ قومی دفاعی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا

مصر کی حکومت نے میں دو مختلف حملوں میں 31 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد صحرائے سینا کے کچھ علاقوں میں تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا ہے۔

صدر عبدالفتاح السیسی نے مبینہ طور پر جہادی حملوں کے بعد ملک میں تین دن کے سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔

سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے ساتھ مصر کی سرحد رفا کو بھی بند کر دیا ہے۔

مصر کی فوج کو جو شمالی صحرائِے سینا میں جہادی عناصر کے خلاف فوجی کارروائی کر رہے کو گزشتہ کئی دہائیوں میں ہونے والا یہ ایک بڑا جانی نقصان ہے۔

سابق صدر حسنی مبارک کو اقتدار سے الگ کیے جانے کے بعد سے یہ علاقہ لاقانونیت کا شکار ہے۔ جہادی عناصر نے اخوان المسلیمین کے صدر محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد سے اپنی کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا تھا۔

گزشتہ جمعہ کو فوجی چوکی پر حملے کی جس میں 28 فوجی ہلاک ہو گئے تھے کس نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption صحرائے سینا کا کچھ علاقے ایک عرصے سے بدامنی کا شکار ہے

العریش کے علاقے میں ہونے والے اس حملے میں 28۔فوجی زخمی بھی ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد ایک اور پولیس چوکی پر فائرنگ میں تین مزید فوجی مارے گئے تھے۔

صحرائے سینا کے شمالی اور مرکزی حصے میں ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا ہے۔ اس علاقے میں ایمرجینسی نافذ کرنے کا فیصلہ قاہرہ میں فوجی صدر عبدالفتاح السیسی کی زیر صدارت قومی دفاعی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔

کونسل کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ فوج اور پولیس دہشت گردی سے خطرے سے نمٹنے کے لیے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گی۔گ

قاہرہ میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گورن کے مطابق علاقے میں مواصلات کو جام کر دیا گیا ہے اور خصوصی فورسز ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کا پتا لگانے کی کوشش کر رہے ہی۔