عراق میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی پسپائی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دولتِ اسلامیہ نے اگست میں کرد پیش مرگا کو زومار سے نکال دیا تھا جس کے بعد امریکہ نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی کی مہم کا آغاز کیا

عراق میں کرد افوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے ملک کے شمال میں دولتِ اسلامیہ کو پسپا کرکے زومار قصبے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

دوسری حانب عراقی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ وہ بغداد کے قریب ایک علاقے میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو پیچھے دھکیل رہے ہیں تاکہ اس راستے پر کنٹرول قائم کیا جائے جسے شیعہ زائرین استعمال کرتے ہیں۔

دریں اثنا امریکہ کی سربراہی میں اتحادی افواج کی فضائیہ نے جمعے اور سنیچر کو عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف 22 حملے کیے۔

واضح رہے کہ دولتِ اسلامیہ نے جون سے عراق و شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کیا ہے جسے ختم کرنے کے لیے فضائی کارروائی ہو رہی ہیں۔

عراق کے کرد پیش مرگا کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی فضائی حملوں کی مدد سے زومار اور اس کے مضافات میں کئی دیہاتوں سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو پسپا ہونے پر مجبور کیا ہے۔

یہ قصبہ موصل سے تقریباً 60 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ موصل پر دولتِ اسلامیہ نے جون میں قبصہ کیا تھا۔

دولتِ اسلامیہ نے اگست میں کرد پیش مرگا کو زومار سے نکال دیا تھا جس کے بعد امریکہ نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی کی مہم کا آغاز کیا۔

ادھر لبنان کے شہر طرابلس میں فوجیوں اور مبینہ طور پر دولتِ اسلامیہ سے منسلک سنی شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جرف السخر میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی موجودگی محرم میں عاشورہ میں حصہ لینے لینے ہزاروں شیعہ افراد کے لیے خطرناک ہو سکتی تھی

امریکی مرکزی کمانڈ نے کہا ہے کہ جمعے اور سنیچر کو عراق کے موصل کے ڈیم ایریا، فلوجا اور بیجی کے دیگر علاقوں میں 22 فضائی حملے کیے گئے جس میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ترکی کے ساتھ سرحد پر واقع شامی قصبے کوبانی پر ایک اور فضائی حملے میں دولتِ اسلامیہ کے توپ خانے کو تباہ کیا گیا۔

عراقی حکومتی افواج نے بغداد کے جنوب میں جرف السخر میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو پسپا کیا۔ اس قصبے کو جنوبی عراق میں شیعہ زائرین کی سکیورٹی کے لیے بہت اہم قرار دیا جاتا ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس قصبے کے زیادہ تر علاقے کو دولتِ اسلامیہ سے خالی کرا لیا گیا ہے۔

صوبائی گورنر صادق مدلول نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہم دولتِ اسلامیہ کے دہشت گردوں کو جرف السخر سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ اور ہم سرکاری دفاتر پر سرکاری جھنڈے لہرا رہے ہیں۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جرف السخر میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی موجودگی محرم میں عاشورہ میں حصہ لینے والے ہزاروں شیعہ افراد کے لیے خطرناک ہو سکتی تھی۔

اس قصبے پر قبضے سے عراقی افواج کو انبار صوبے میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کرنے میں آسانی ہوگی۔

اسی بارے میں