مونیکا کی ٹوئٹر پر آمد، ہیلری کی پریشانی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈیموکریٹک پارٹی کو سٹار کیمپینرز کی کمی محسوس ہو رہی ہے

شرم کرو مونیکا۔ تم نے اور بل کلنٹن نے جو بھی کچھ کیا اس کی اصلی شکار تو ہیلری کلنٹن ہوئیں۔ لیکن پھر بھی جب وہ اس صفحے کو پلٹ کر آگے بڑھتی ہیں تو آپ واپس آ کر پھر سےاسی صفحے کو کھول دیتی ہیں۔ کچھ تو شرم کرو۔

یہ میں نہیں کہہ رہا، امریکہ کے ایک صحافی نے بڑے غصے میں اپنے کالم میں یہ سب لکھا ہے۔ لیکن بھائی اس میں مونیکا لیونسكي کی کیا غلطی ہے؟ اب کیا وہ اپنی پوری زندگی گمنامی میں گزاریں؟ کبھی خبروں میں نہ آئیں اور کبھی منہ نہ كھولیں؟ ہیلری کے چاہنے والے یہ امیدیں کیوں لگائے بیٹھے ہیں؟

اسی ہفتے مونیکا ٹوئٹر پر آئی ہیں، صرف چار بار منہ کھولا تو 75 ہزار لوگوں نے انھیں فالوکر لیا اور اگر مزید منہ كھولیں گي تب تو سیلاب آ جائےگا۔

اور ہیلری کلنٹن کے چاہنےوالوں کو یہی خوف ستا رہا ہے کہ جب ایک دو مہینوں میں وہ صدارتي امیدواری کے لیے سامنے آنے والی ہیں تو کہیں مونیکا اور بل کلنٹن کا 16 سالہ پرانا قصہ پھر سے سرخیوں میں نظر نہ آنے لگے اور ہیلری ایک ستائي ہوئی بیوی کی طرح نہ دکھائی دینے لگیں۔

آخر دنیا کی سب سے طاقتور کرسی کے لیے ہیلری تیاری کر رہی ہیں تو یہ تو نہ لگے کہ جو اپنے شوہر کو قابو میں نہیں رکھ سکی وہ دنیا کو کیا چلائےگي۔ یا پھر یہ بھی نہ لگے کہ ہیلری اتنی موقع پرست تھیں، یا وائٹ ہاؤس میں رہنے کا لالچ اتنا تھا کہ بل کلنٹن کو چھوڑ تک نہ پائیں۔

فی الحال تو ہیلری کی پتنگ بلندی پر ہے۔ کانگریس کے وسط مدتّی انتخابات ہونے والے ہیں اور ڈیموکریٹ سینیٹرز اپنی انتخابی مہم میں ہیلری اور بل کلنٹن کے لیے لائن لگائے رہتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کو سٹار کیمپینرز کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وقت آ گیا ہے جب اوباما کو مودی کی دی ہوئی گیتا کو غور سے پڑھنا شروع کر دینا چاہیے ’عمل کرو پھل کی فکر مت کرو‘

اوباما وائٹ ہاؤس کی اپنی ہی پریشانیوں میں دو چار رہتے ہیں۔ ایک سر پھرا دوبارہ دیوار کود کر اندر گھس آیا۔ بچپن میں سکول کے قریب ایک بابو موشائي کی چہار دیواري کود کر ہم ناشپاتی چرایا کرتے تھے۔ وائٹ ہاؤس کی دیوار تو اس سے بھی آسان لگنے لگی ہے۔

بیچارے عمران خان بیکار ہی نواز شریف کے محل میں گھسنےکے لیے ہفتوں سے دھرنا دے رہے ہیں۔ تھوڑا بڑا سوچتے تو وائٹ ہاؤس کے اندر چھلانگ لگاتے، اوباما سے منّت سماجت کرتے توشاید وہ وائٹ ہاؤس چھوڑنے کو بھی راضی ہو جاتے۔

کیونکہ اوباما کی تو حالت یہ ہے کہ ان کی اپنی پارٹی والے بھی ان سے ایسے کترا رہے ہیں جیسے اوباما نہیں ایبولا ہو۔ اور تو اور سینیٹرز کی ریس میں شامل ایک ڈیموکریٹ خاتون امیدوار، جواوباما کی پالیسی کی ایسی تیسی کر رہی تھیں، سے پوچھا گیا کہ آپ نے اوباما کے لیے ووٹ ڈالا تھا یا نہیں، تو ان کا کہنا تھاکہ یہ وہ نہیں بتا سکتیں اور آئین کے تحت انھیں اس کا حق حاصل ہے۔

مجھے یاد ہے کہ سنہ 2009 کے جنوری کی وہ سرد صبح جب لاکھوں لوگ واشنگٹن میں اوباما کو سننے کے لیےامنڈ رہے تھے۔ بہت سے ایسے تھے جن کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ رہے تھے۔ اور اب دن ایسے بدلے ہیں کہ اسی ہفتے اوباما ایک سینیٹر کی انتخابي ریلی میں جب تقریر کر رہے تھے تو لوگ تقریر ختم ہونےسے بھی پہلے وہاں سے نکلنے لگے۔

وقت آ گیا ہے جب اوباما کو مودی کی دی ہوئی گیتا کو غور سے پڑھنا شروع کر دینا چاہیے۔ ’عمل کرو پھل کی فکر مت کرو۔‘

ویسے بھی امریکہ میں اس کی روایت رہی ہے۔ بش نے عمل کیااور پھل کی فکر کبھی نہیں کی۔ مزے سے خود ریٹائر ہوگئے اوردنیا ابھی تک پھل بھگت رہی ہے۔

حال ہی میں مائیكروسافٹ کے سی ای او بنے ستيہ نڈیلا نے بھی خواتين کو لیکچر دے ڈالا کہ کام کرتے رہو، تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں۔ ان کی اپنی سالانہ تنخواہ بغیر مانگے ہی شاید 84 ملین ڈالر یعنی آٹھ کروڑ چالیس لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہوگی؟

خیر آپ اپنے عمل میں لگ جائیں، میں ذرا دیکھوں تو مونیکا نےکوئی نیا ٹویٹ کیا یا پھر چار پر ہی اٹکی ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں