خلافت کے نعرے میں اتنی کشش کیوں ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس خلافت کے خلیفہ ابوبکر البغدادی خود ہوں گے

جون میں دولت اسلامیہ کے رہنما نے ایک ایسی خلافت کے قیام کا باقاعدہ اعلان کر دیا جو عراق اور شام کے کئی علاقوں پر مشتمل ہوگی اور اس خلافت کے خلیفہ ابوبکر البغدادی خود ہوں گے۔ ذیل کے مضمون میں ایڈورڈ سٹورٹن نے ابو بکر البغدادی کے اس اعلان کا تاریخی تناظر میں جائزہ لیا ہے اور دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ کیا آج بھی خلافت کے نظریے میں کوئی جان ہے یا نہیں۔

جب جون میں ابوبکر الغدادی نے خلافت کا اعلان کیا اور اپنے لیے خلیفہ کے لقب کا انتخاب کیا تو محسوس ہوا کہ انھوں نے دولت اسلامیہ کی اس شہرت کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ تنظیم واقعی بڑائی کے خبط میں مبتلا ہے اور خود کو عہد رفتہ کی عظیم روایات کی امین سجھتی ہے۔

اپنے بیان میں ابوبکر البغدادی کا اصرار تھا کہ ان کے ہاتھ پر بیعت کرنا تمام مسلمانانِ عالم کی مذہبی ذمہ داری ہے۔ ان کے اس دعوے کو پورے مشرق وسطیٰ نے بری طرح رد کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کی تھی۔

لیکن کیا واقعی یہ سمجھنا کہ دولت اسلامیہ کے اعلان کی کوئی اہمیت نہیں ہے خاصا خطرناک ہو سکتا ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ابوبکر البغدادی کی بے رحم حکومت کا اس خلافت کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں جس کی تصویر مسلمانوں کے ذہن میں ہے، لیکن دولت اسلامیہ کے رہنما کے اعلان سے عراق و شام سے دور بیٹھے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں ایک امنگ ضرور پیدا ہوئی ہے۔

مسلمانوں کی آخری خلافت، خلافت عثمانیہ تھی جسے ختم ہوئے اس موسمِ بہار میں 90 برس ہو چکے ہیں۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جب سنہ 2006 میں گیلپ کے ایک جائزے میں مصر، مراکش، انڈونیشیا اور پاکستان کے مسلمانوں سے پوچھا گیا تو ان میں سے دو تہائی نے اس خیال کی حمایت کی تھی کہ ’تمام اسلامی ممالک‘ کو ایک نئی خلافت کے پرچم تلے متحد ہو جانا چاہیے۔

آخر وجہ کیا ہے کہ مسلمانوں کی اتنی بڑی اکثریت ایک ایسے خیال کی تائید کرتی ہے جو ہمیں محض ایک خواب دکھائی دیتا ہے؟

اس سوال کا جواب ہمیں خلافت کی تاریخ میں ملتا ہے۔

لفظ ’خلیفہ` کا مطلب نمائندہ یا نائب ہے اور قرآن اس لفظ کو حکومت کے معنی میں استعمال کرتا ہے۔ حضرت آدم، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان میں سے ہر ایک کو قرآن زمین پر خدا کا خلیفہ کہتا ہے۔ اور جب 632 عیسوی میں پیغمبر اسلام کی وفات ہوگئی تو یہ لقب ان کے بعد مسلمانوں کے اگلے رہنما کے حصے میں آ گیا جو چار خلفائے راشدین میں پہلے خلیفہ بنے۔ اسلامی دور کی پہلی تین دہائیاں خلفائے راشدین کے ادوار پر مشتمل تھیں۔

مشہور مصنف رضا پینکہرسٹ کے مطابق چاروں خلفائے راشدین کا تقرر عوامی رضامندی کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔ رضا پینکہرسٹ کہتے ہیں کہ خلفائے راشدین کے دور میں یہ نظریہ مسلم ہو گیا تھا کہ خلیفہ ’عوام کی مرضی سے مقرر ہوگا اور یوں مقرر کیے جانے والے خلیفہ پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی رعایا کی بھلائی کے کام کرے، اسلامی قوانین نافذ کرے اور یقینی بنائے کہ ان قوانین پر عمل بھی ہو۔‘ رضا پینکہرسٹ کا کہنا ہے کہ ’سچا خلیفہ‘ کبھی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption 8ویں صدی میں اسلامی خلافت دور دور تک پھیل چکی تھی

شیعہ مسلمان اس تاریخ سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ پہلے دو خلفا نے پیغمبر کے قریبی عزیز حضرت علی کے خلاف مہم جوئی کی اور انھیں خلیفہ نہ بننے دیا۔جہاں تک سنی مسلمانوں کا تعلق ہے تو ان کے لیے خلافت پر مبنی ایک مسلمان حکومت کے خیال میں اب بھی بہت کشش ہے۔

خلافت میں اتنی کشش کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ خلافت مسلمانوں کو ان کی عظمت کی یاد دلاتی ہے۔

پیغمبرِ اسلام کے انتقال کے 70 برس بعد بنو امیہ اور عباسیوں کی قائم کردہ مسلمان حکومت سپین اور مراکش سے لےکر وسطی ایشیا تک اور وہاں سے لے کر موجودہ پاکستان کے جنوبی حصوں تک پھیل چکی تھی اور یہ اتنی بڑی حکومت صرف ایک خلیفہ کے تابع تھی۔تاریخ دان پروفیسر ہیو کینیڈی کہتے ہیں کہ ’یہی وہ مسلمانوں کا اتحاد تھا اور ان کی خود مختاری تھی جو مسلمانوں میں خلافت کی کشش کا بڑا سبب ہے۔‘

اسلامی تاریخ کا سنہری دور ادب اور تہذیبی ترقی کا دور تھا۔مثلاً عباسیوں کے دور میں ادب، موسیقی کی بہت پذیرائی ہوئی اور طب، سائنس اور ریاضی کے میدانوں میں ایسی ترقی ہوئی کہ جس سے دنیا تبدیل ہوگئی۔

لیکن بنو امیہ اور بعد میں عباسیوں کی سلطنت اس قدر تیزی سے پھیلی کے بعد میں آنے والے سلاطین کے لیے اتنی بڑی ریاست کو یکجا رکھنا مشکل ہو گیا۔ جوں جوں سیاسی قوت تقسیم ہوتی گئی، نہ صرف مسلمانوں کو نئے نئے سیاسی امتحانوں کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ خلافت کے نظریے کی مذہبی بنیادیں بھی کمزور ہوتی گئیں۔ اتحاد میں پوشیدہ طاقت اصل میں خلافت کے نظریے کے ساتھ جڑی ہوئی تھی، لیکن دنیا نے دیکھا کہ محض ایک سو سال کے اندر اندر مسلمان دنیا میں متوازی خلافتیں منظر عام پر آ گئیں اور خلافت ریاستوں میں تقسیم ہونا شروع ہو گئی۔یہاں تک کہ بعض اوقات متوازی خلافتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونا شروع ہو گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption 1258 میں منگولوں نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی

عباسی خلافت پانچ سو برس پر محیط تھی اور اس کا خاتمہ ایک خونریز جنگ کے بعد سنہ 1258 میں اس وقت ہوا جب بغداد پر منگولوں نے قبضہ کر لیا اور یوں اس شہر کے آخری خلیفہ کو قالین میں لپیٹ کر منگولوں نے اپنے گھوڑوں کے سموں کے نیچے دے دیا۔ اپنے تئیں منگول اس خلیفہ کی عزت کر رہے تھے کیونکہ ان کے ہاں کسی شنشہاہ کو یوں مارنا کہ اس کا خون بہے، شہنشاہ کی عظمت کے خلاف تھا۔

منگولوں کے ہاتھوں بغداد کے لٹ جانے کے بعد بھی خلافت کا نظریہ اور ادارہ زندہ رہا۔ عباسی خاندان کے بچے کچھے افراد کو مملوکوں نے قاہرہ میں اعزازی خلفا کے طور پر تعینات کر دیا۔ ان اعزازی خلفا کی اس سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں تھی کہ وہ پوشاکیں پہن کر مملوکوں کے درباروں کی زینت بڑھائیں۔ لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انہیں درباروں میں جگہ دیکر مملوکوں نے خلافت کا نظریہ کم از کم ایک خیال کی حد تک زندہ ضرور رکھا۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب 16ویں صدی کے آغاز پر قلیل مدت کے لیے ایک نئی اسلامی سلطنت قائم ہوئی تو عثمانیوں کو ایک عارضی عروج حاصل ہوا تو انھوں نے بھی اپنے لیے خلیفہ کا خطاب ہی استعمال کیا۔ عثمانیوں کا یہ دور چار سو برس تک جاری رہا۔

خلافت کا چراغ آخر کار اس وقت گل ہوا جب سنہ 1924 میں جدید ترکی کے بانی کمال اتاترک نے اس کے باقاعہ اختتام کا اعلان کر دیا۔کمال اتترک کا خیال تھا کی اسلامی سلطنت کے بچے کچھے علاقوں کو یکجا کر کے ایک نئی جدید سیکولر ریاست کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ خلافت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ آخری عثمانی خلیفہ کو استنبول سے جلاوطن کر دیا گیا جس نے اپنی باقی زندگی پیرس میں ایک معزول شاہ کی حیثیت میں بسر کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کمال اتاترک

معزول خلیفہ کی بے توقیری اپنی جگہ، لیکن وہ جس خطاب کے نمائدہ تھے، وہ خطاب تقریباً 13 سو برس تک مسلمانوں کی حکومت کی علامت رہ چکا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اتاترک کے ہاتھوں خلافت کا باقاعدہ خاتمہ بھی مسلمانوں کے ذہنوں سے خلافت کے نظریے کو نہیں نکال سکا۔

لیڈز یونیورسٹی سے منسلک محقق سلمان سید کہتے ہیں کہ خلافت کے خاتمے کے بعد سنہ 1920 کی دہائی میں مسلمان مفکرین نے خود کو ایک ایسے مقام پر پایا جہاں ان کے لیے ضروری ہو گیا کہ وہ کچھ ایسے بنیادی سوال اٹھائیں جن سے ان ماضی میں کبھی سابقہ نہیں پڑا تھا۔

کیا مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک اسلامی مملکت میں زندگی بسر کریں؟

اس ریاست کی شکل کیا ہونی چاہیے؟ا

20ویں صدی کے وسط میں مصر کے جمال عبدالناصر جیسے رہنماؤں نے ان سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کی اور تمام عرب دنیا کے ایک مشترکہ فرمانروا کا خیال دیا جو ایک سیکولر ریاست کا سربراہ ہو۔ناصر نے اس کو خیال تک محدود نہ رکھا بلکہ انھوں نے ’متحدہ عرب ریپبلک‘ کے قیام کا بھی اعلان کیا جس میں مصر اور شام دونوں شامل کیے گئے۔

لیکن مشرق وسطیٰ میں اس وقت سب کچھ تبدیل ہوگیا جب اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی۔ رضا پینہرسٹ کے بقول ’عظیم عرب‘ کا خواب اسرائیل کی فوجی برتری کی چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگیا۔

’متحدہ عرب کے نظریے کی کشش یہ تھی کہ مسلمان ممالک یکجا ہو کر اپنی کھوئی ہوئی عظمت بحال کر سکتے ہیں اور یوں وہ فلسطین کو آزاد کرا سکتے ہیں۔ لیکن جب ہمیں سنہ 1967 میں اسرائیل کے ہاتھوں حزیمت بھری شکت کا سامنا کرنا پڑا تو مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ ان کا اتحاد اور خلافت کا نظریہ کس قدر کھوکھلا نعرہ بن چکا ہے۔‘

کئی مبصرین کا خیال ہے کہ ’عرب بہار‘ جیسی تحریکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں عوام دراصل ان حکمرانوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں جو ان کے خیال میں مطلق العنان ہیں اور ان کی حکومتیں مبنی بر انصاف نہیں۔

اس کے علاوہ مسلمان مفکرین کے ہاں بھی خلافت کے نظریے کے بارے میں مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔

اس حقیقت کے باوجود کہ اسلامی ممالک کے درمیان کسی دوررس اور دیرپا اتحاد کے دور دور تک کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے، دولتِ اسلامیہ کمال مہارت سے مسلمانوں کی خلافت کی تاریخ سے ایسے نکات ضرور نکال لیے ہیں جنھیں استعمال کر کے وہ اپنے عزائم میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عبدالرحمان سوئم

تاریخ دان ہیو کینیڈی کہتے ہیں دولتِ اسلامیہ نے اپنے لیے سیاہ لباس اور سیاہ پرچموں کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے کیونکہ 8ویں صدی میں عباسیوں کے درباروں کا سرکاری لباس بھی ایسا ہی تھا اور آج دولت اسلامیہ کے جنگجو اور رہنما اپنے سیاہ لباسوں سے وہ مسلمانوں کو ان کے سنہری دور کی یاد دلانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح ’دولتِ اسلامیہ‘ کے نام سے تنظیم یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ اس کے ہاں سیاسی سرحدوں کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ عراق اور شام کے موجودہ علاقے دراصل ایک ہی عظیم مملکت کے حصے رہے ہیں، اسلامی ’خلافت‘ کے صوبے۔

دولتِ اسلامیہ کی کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلافت کے فلسفے میں کس قدر جان ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دولت اسلامیہ بڑائی کے خبط میں مبتلا ہے خود کو عہد رفتہ کی عظیم روایات کا امین سمجھتی، لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ تنظیم خلافت کے جس نظریے پر اپنی عمارت کھڑی کر رہی ہے وہ محض ایک خیال یا نظریہ نہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔