برطانیہ نے افغانستان میں آخری فوجی اڈہ خالی کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کیمپ بیسچین 2006 کے بعد سے برطانوی افواج کا افغانستان میں مرکزی اڈہ رہا ہے

برطانیہ نے افغانستان میں اپنا آخری فوجی اڈے کیمپ بیسچین کو آج افغان افواج کے حوالے کر دیا گیا ہے جس کے بعد افغانستان سے برطانوی افواج کا انخلا حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

برطانوی افواج جو 2001 سے افغانستان میں موجود ہیں اور کیمپ بیسچین کو 2006 کے بعد سے ان کا مرکزی اڈہ رہا ہے۔

کیمپ بیسچین افغانستان کے صحرائی صوبے ہلمند میں واقع ہے اور ان دنوں تقریباً 2700 برطانوی فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔

اب تک افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد 453 ہے۔

برطانیہ نے ہلمند کی کمان اپریل میں امریکی فوجیوں کے حوالے کر دی تھی اور حالیہ مہینوں میں تمام فوجی سازوسامان ملک واپس بھجوایا جا رہا ہے۔

بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار جوناتھن بیل جو موقع پر موجود تھے نے بتایا کہ برطانوی پرچم جو 2006 سے یہاں لہرا رہا تھا اب اس تقریباً خالی اڈے میں اسے اتارا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ موقع جو ایک علامتی حیثیت رکھتا ہے خاص طور پر برطانیہ کے لیے کہ افغانستان میں جنگ ختم ہو چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیمپ بیسچین میں موجود آخری 300 برطانوی فوجیوں کا دستہ بھی جلد ہی ہمیشہ کے لیے روانہ ہو جائے گا

اس موقع پر امریکی، برطانوی اور افغان فوجیوں نے گارڈ آف آنر پیش کیا جس کے بعد تینوں ممالک کے ترانے بجائے گئے۔

اسی موقعے پر امریکی نے سرکردگی کی اور صرف امریکی اور افغان کمانڈر بولے برطانوی اہلکار نہیں بولے۔

اب افغان فوجی اس جنگ کو آگے بڑھائیں گے جن کے 4000 اہلکار اب تک اس جنگ کے بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

بیسچین اڈے پر باقی رہ جانے والے آخری 300 برطانوی فوجی بھی جلد ہی ہمیشہ کے لیے واپس لوٹ جائیں گے۔

2009 میں کارروائی کے عروج کے زمانے میں کیمپ بیسچین میں 10000 کے قریب فوجی اس اڈے پر موجود رہےاور برطانیہ کی جنوبی افغانستان میں 137 گشتی چوکیاں موجود تھیں۔

اب محدود تعداد میں فوجی اہلکار ملک میں موجود رہیں جو کابل میں واقع برطانیہ کے زیرِ انتظام ایک تربیتی اکیڈمی میں ہوں گے۔

اس کیمپ کے بناتے وقت برطانوی حکومت کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد تعمیرِ نو کے کام میں شامل افراد کی حفاظت ہے مگر یہ اہلکار طالبان کے ساتھ لڑائی میں الجھے رہے۔

یہ کیمپ بڑا ہوتے ہوتے رقبے کے لحاظ سے برطانوی شہر ریڈنگ کے برابر ہو گیا جا کا قطر 22 میل پر محیط تھا جبکہ اس کا رن وے ایک وقت میں برطانیہ کے زیرِ انتظام ہوائی پٹیوں میں پانچوں نمبر پر مصروف ترین تھا۔

اب توقع کی جا رہی ہے کہ اسے کمرشل ہوابازی کے لیے استمال کیا جائے گا۔