یوکرین کے انتخابات میں مغرب نواز پارٹیوں کی کامیابی

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption یوکرین کے مشرقی علاقوں میں کشیدگی کی وجہ سے تقریباً 30 لاکھ لوگوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا

یوکرین میں ایگزٹ پولز کے مطابق نئی پارلیمان کے لیے ہونے والے ہنگامی انتخابات میں مغرب نواز جماعتیں کامیاب ہوئی ہیں۔

ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور توقع ہے کہ صدر پیٹرو پوروشینکو کے بلاک کو سب زیادہ سے ووٹ ملیں گے، جبکہ دوسرے نمبر پر وزیر اعظم آرسینی یاتسین یکتا کی پیپلز فرنٹ پارٹی ہے۔

ووٹنگ بند ہونے کے فوری بعد شائع ہونے والے دو ایگزٹ پولز کے مطابق صدر پوروشینکو کے پوروشینکو بلاک، جس میں ان کی اپنی اتحاد پارٹی کے علاوہ ادار پارٹی شامل ہے، 23 فیصد ووٹوں کے ساتھ آگے ہے، جبکہ وزیر اعظم آرسینی یاتسین یکتا کی پیپلز فرنٹ پارٹی 21 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

صدر پیٹرو پوروشینکو نے اس سال کے اوائل میں ملک سے روس نواز رہنماؤں کے ہٹائے جانے کے بعد ملک کی سمت کے تعین کے لیے انتخابات کا اعلان کیا ہے۔

یوکرین کے مشرقی علاقوں میں کشیدگی کی وجہ سے تقریباً 30 لاکھ لوگوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

دونیتسک اور لوہانسک میں علیحدگی پسند اگلے ماہ اپنے انتخابات خود کرائیں گے۔ اسی طرح کرائمیا کے علاقے کے 18 لاکھ افراد بھی ووٹ نہیں دیں گے کیونکہ روس نے مارچ میں اس علاقے کو اپنے ملک میں ضم کر لیا تھا۔

یہ انتخابات توانائی کے بحران کے دوران ہوئے ہیں کیونکہ روس نے جون میں بل کی عدم ادائیگی کے تنازعے کے بعد یوکرین کو گیس کی فراہمی معطل کر دی تھی۔

یوکرین کی معیشت تنزل کا شکار ہے اور پیش گوئیوں کے مطابق اس سال اس کی مجموعی ملکی پیداوار میں سات سے دس فی صد کی کمی واقع ہو جائے گی۔

انتخابات میں حصہ لینے والی اہم پارٹیوں میں پوروشینکو کا پوروشینکو بلاک، وزیر اعظم آرسینی یاتسین یکتا کی پارٹی پیپلز فرنٹ، اوہلے لیاشکو کی قوم پرست ریڈیکل پارٹی، اورسابق وزیر اعظم یولیا ٹومیشینکو کی فادرلینڈ پارٹی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ان میں سے زیادہ تر پارٹیاں مغرب نواز اور قوم پرست ہیں جبکہ معزول صدر وکٹر یانوکووچ کی ریجنز پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی۔

اسی بارے میں