یوکرین: بحران کے درمیان ہنگامی انتخابات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 450 میں سے نصف نشستیں پارٹی کی فہرست کے نظام کے تحت مختص کی جائیں گی

یوکرین میں نئی پارلیمان کے لیے ہونے والے ہنگامی انتخابات میں یوکرین کے باشندے ووٹ ڈال رہے ہیں۔

صدر پیٹرو پوروشینکو نے اس سال کے اوائل میں ملک سے روس نواز رہنماؤں کے ہٹائے جانے کے بعد ملکی سمت و رفتار کے تعین کے لیے انتخابات کا اعلان کیا ہے۔

لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقوں میں جاری روس نواز باغیوں کی وجہ سے یہ انتخابات متاثر ہوں گے۔

دونیتسک اور لوہانسک علاقوں کے تقریبا 30 لاکھ افراد ووٹ نہیں دیں گے جبکہ کہ یہ علیحدگی پسند اگلے ماہ اپنا انتخابات خود کرائیں گے۔

اسی طرح کرائیمیا کے علاقے کے 18 لاکھ افراد بھی ووٹ نہیں دیں گے کیونکہ روس نے مارچ میں اس علاقے کو اپنے ملک میں ضم کر لیا۔

یہ انتخابات توانائی کے بحران کے دوران ہو رہے ہیں کیونکہ روس نے جون میں بل کی عدم ادائیگی کے تنازعے میں گیس کی سپلائی معطل کر دی ہے۔

یوکرین کی معیشت دھنس رہی ہے اور پیش گوئیں کے مطابق اس سال اس کی مجموعی ملکی پیداوار میں سات سے دس فی صد کی کمی واقع ہونے والی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption انتخابات میں حصہ لینے والی زیادہ تر پارٹیاں مغرب نواز اور قوم پرست ہیں

دوسری جانب یوکرین کی حکومت کو امید ہے کہ انتخابات سے ملک کو استحکام ملے گا اور روس حامی پارٹیاں ان واقعات سے کمزور ہوں گی۔

واضح رہے کہ 450 میں سے نصف نشستیں پارٹی کی فہرست کے نظام کے تحت مختص کی جائیں گی اور ہر پارٹی کو سیٹ جیتنے کے لیے پانچ فی صد کا اضافہ چاہیے۔

اس کے علاوہ 198 انفرادی انتخابی حلقوں سے ایم پی منتخب کیے جائیں گے جبکہ کرائمیا اور باغیوں کے علاقے کی 27 نشستیں خالی چھوڑ دی جائیں گی۔

انتخابات میں حصہ لینے والی اہم پارٹیاں اس طرح ہیں:

  • پوروشینکو کا پوروشینکو بلاک جس میں ان کی اپنی اتحاد پارٹی اور ادار پارٹی شامل ہے۔
  • وزیر اعظم آرسینی یاتسین یکتا کی پارٹی پیپلز فرنٹ،
  • اوہلے لیاشکو کی قوم پرست ریڈیکل پارٹی، اور
  • سابق وزیر اعظم یولیا ٹومیشینکو کی فادرلینڈ پارٹی
تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption دونیتسک اور لوہانسک علاقوں کے تقریبا 30 لاکھ افراد ووٹ نہیں دیں گے

واضح رہے کہ ان میں سے زیادہ تر پارٹیاں مغرب نواز اور قوم پرست ہیں جبکہ معزول صدر وکٹر یانوکووچ کی ریجنز پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی ہے۔

صدر پوروشینکو نے کہا کہ ’بالآخر ہم روس حامی کے بجائے یوکرین حامی، رشوت ستان کے بجائے بدعنوانی مخالف اور ایک یورپ حامی حکومت کا انتخاب کریں گے۔‘