نائجیریا میں بوکو حرام نے 30 بچوں کو اغوا کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption بوکوحرام گروپ سنہ 2009 سے نائجیریا میں اسلامی ریاست کے قیام کے لیے برسرِ پیکار ہے

نائجیریا کی شمال مشرقی کے علاقے میں مقامی رہنماؤں کے مطابق شدت پسند تنظیم بوکوحرام کے مشتبہ عسکریت پسندوں نے 30 بچوں کو اغوا کر لیا ہے۔

اغوا کا یہ دوسرا واقعہ ہے جو حکومت کی جانب سے شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے بعد پیش آیا ہے۔

اس سے پہلے گذشتہ جمعرات کو شمال مشرقی ریاست اڈاماوا میں مقامی رہائشیوں کے مطابق مشتبہ عسکریت پسندوں نے دو دیہات سے درجنوں مزید لڑکیاں اور خواتین اغوا کو اغوا کر لیا تھا۔

جمعرات کو کو بورنو ریاست کے گاؤں معفا میں شدت پسندوں کے حملوں میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حقوق انسانی کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سال 2009 سال سے اب تک بوکوحرام گروپ نے پانچ سو سے زائد لڑکیوں اور خواتین کو اغوا کیا ہے۔

ادارے کے مطابق حکومت کی جانب سے چھ ماہ پہلے اغوا کی جانے والی دو سو لڑکیوں کے بازیابی کے لیے اختیار کیے جانے والا طریقۂ کار بری طرح سے ناکام ہوا ہے۔

حکومت پرامید ہے کہ مذاکرات کے پس منظر اور جنگ بندی کے اعلان کے بعد بوکو حرام اپریل میں اغوا کی گئی 200 سے زائد لڑکیوں کو رہا کر دے گی۔ تاہم بوکو حرام نے ابھی تک حکومت کے ساتھ جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی۔

گذشتہ جمعے کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد حکومت نے کہا کہ بوکو حرام کے ساتھ مزید مذاکرات پڑوسی ملک چاڈ میں کیے جائیں گے۔

دو ماہ پہلے بوکو حرام پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ اب خواتین کو بھی خود کش بمباروں کی صورت میں جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب شمال میں سب سے بڑے شہر کانو میں حملے میں چار نو عمر لڑکیوں نے حملہ کیا۔ تاہم حکومت اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتی ہے کہ بوکو حرام کی جانب سے اِغوا ہونے والی 200 سے زائد طالبات کو انسانی بموں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں