’ویزوں کی منسوخی کا آسٹریلوی فیصلہ متعصبانہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیئیرا لیون کے وزیر برائے اطلاعات ایلفا کانو نے آسٹریلیا کے فیصلے کو ’ظالمانہ‘ قرار دیا ہے

افریقی ملک سیئیرا لیون نے آسٹریلیا کے اس فیصلے کو ’بے سود‘ اور ’متعصبانہ‘ قرار دیا ہے جس کے تحت ایبولا سے متاثرہ مغربی افریقہ کے ممالک کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں۔

آسٹریلوی حکومت کی جانب سے ویزوں کی منسوخی کے فیصلے کو انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی کہا ہے کہ سفری پابندیوں سے ایبولا پر قابو پانے کی کاوشوں پر اثر پڑے گا۔

واضح رہے کہ ایبولا وائرس سے اب تک 5000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہلاک ہونے والوں کی اکثریت مغربی افریقہ کے ممالک سیئیرا لیون، لائبیریا اور گنی سے ہیں۔

آسٹریلیا نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ ایبولا سے متاثرہ مغربی افریقہ کے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے ویزے منسوخ کیے جا رہے ہیں اور ان افراد کو نئے ویزوں کے لیے دوبارہ درخواست دینی ہو گی۔

تاہم سیئیرا لیون کے وزیر برائے اطلاعات ایلفا کانو نے آسٹریلیا کے اس فیصلے کو ’ظالمانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیئیرا لیون کے فری ٹاؤن ہوائی اڈے پر جو ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں ان سے ایبولا وائرس سے متاثر کسی شخص کو سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ میں نئے قوانین کے مطابق افریقہ میں ایبولا کا علاج کر کے واپس آنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کی سخت نگرانی کی جائے گی۔

نئی ہدایات کے تحت افریقہ سے واپس آنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کی 21 دنوں تک ایبولا کی علامات ظاہر ہونے کی میعاد تک نگرانی کی جائے گی اور انھیں وبائی بیماری کے خوف سے لوگوں سے علیحدہ رکھا جائے گا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی امریکہ میں افریقہ سے واپس آنے والے صحت کے شعبے میں کام کرنے والے اہلکاروں کو الگ رکھے جانے پر تنقید کی تھی۔

اسی بارے میں