امریکہ: ایبولا کا علاج کرنے والوں کی نگرانی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکہ میں نئی ہدایات جاری کی گئيں ہیں جن کے تحت ایبولا سے متاثرہ افریقی ممالک سے لوٹنے والوں کی سرگرمی کے ساتھ جانچ کی جائے گی

امریکہ میں نئے قوانین کے مطابق افریقہ میں ایبولا کا علاج کر کے واپس آنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کی سخت نگرانی کی جائے گی۔

نئی ہدایات کے تحت افریقہ سے واپس آنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کی 21 دنوں تک ایبولا کی علامات ظاہر ہونے کی میعاد تک نگرانی کی جائے گی اور انھیں وبائی بیماری کے خوف سے لوگوں سے علیحدہ نہیں رکھا جائے گا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی امریکہ میں افریقہ سے واپس آنے والے صحت کے شعبے میں کام کرنے والے اہلکاروں کو الگ رکھے جانے پر تنقید کی تھی۔

افریقہ میں ایبولا سے دس ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں جبکہ تقریباً پانچ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ کے اہم ہوائی اڈوں پر بھی ایبولا کے متعلق جانچ اور نگرانی کا انتظام کیا گیا ہے

امریکہ میں نئے قوانین کا اعلان نیو جرسی میں افریقہ سے واپس آنے والی ایک نرس کو عیلحدہ رکھے جانے پر کی جانے والی شکایت کے بعد کیا گیا ہے۔

نئی ہدایات کی پروا کیے بغیر نیو جرسی کے گورنر کرس کرسٹی نے نرس کیسی ہکوکس کے علیحدہ رکھے جانے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

نرس کیسی ہکوکس حال ہی میں سیئرا لیون سے لوٹی تھیں۔

گورنر کا کہنا ہے ’ہم مستقبل میں بھی اسی طرح کریں گے۔‘

نرس كیسي نے الزام عائد کیا تھا کہ افریقہ سے لوٹنے کے بعد ان کے ساتھ ’مجرموں جیسا سلوک کیا گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نرس کیسی ہوکس کی شکایت کے بعد انھیں الگ تھلگ رکھنے کے خلاف مشورہ دیا گیا ہے

نیو جرسی کے گورنر کا موقف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے موقف سے متصادم ہے۔

اس سے قبل بان کی مون نے کہا تھا: ’جو لوگ متاثرہ علاقوں میں مدد کر رہے ہیں ان پر بغیر کسی سائنسی بنیاد کے ایسی پابندياں نہیں لگائی جانی چاہییں۔‘

انھوں نے کہا کہ جن لوگوں کو انفیکشن ہے ان کی مدد کی جانی چاہیے نہ کہ ان کو ذلیل کیا جانا چاہیے۔

امریکہ کی تین ریاستوں کا کہنا ہے کہ ایبولا کے مریضوں سے رابطے میں آنے والے تمام لوگوں کو 21 دن قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایبولا سے متاثرہ افراد کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ہلاکتیں پانچ ہزار تک پہنچ چکی ہیں

امریکہ میں پیر کو بیماریوں سے تحفظ اور روک تھام کے مرکز کی جانب سے افریقہ کے ایبولا سے متاثر ممالک سے لوٹنے والے طبی اہلکاروں اور مسافروں کے لیے نئی ہدایات جاری کی گئیں۔

ان ہدایات کے تحت لوگوں کو چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں سب سے زیادہ خطرے والے زمرے میں وہ لوگ آتے ہیں جو ایبولا کے مریضوں کے رابطے میں رہے ہیں۔

ایبولا کے مریضوں کا علاج کر کے لوٹنے والے اہلکاروں کی 21 دنوں تک سرگرمی کے ساتھ نگرانی کی جائے گی۔

اسی بارے میں