’کی کارڈز‘ اور ’سمارٹ فونز‘ کے دور میں ’بے چاری‘ چابی

چابی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دھات کی چابی کا استعمال صدیوں سے ہوتا آیا ہے اور شاید اب بھی اسے چھوڑنا اتنا آسان نا ہو

ریکارڈ کی گئی تاریخ کے مطابق فرعونوں کے دور سے انسان چیزوں کی حفاظت کے لیے تالا استعمال کرتا آیا ہے۔ دھات کی چابی ہمیشہ سے ایک نہایت کارآمد شے ثابت ہوئی ہے لیکن آج کل الیکٹرانک تالے بھی زیادہ مقبول ہو رہے ہیں۔ تو کیا دھات کی چابی کا دور گذر گیا ہے؟

اس ہفتے یہ سامنے آیا ہے کہ بغیر چابی کے رینج روورز کاروں کو چور آسانی سے چوری کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے اب لندن میں ان کی انشورنس لینا مشکل ہو رہا ہے۔ اگر چور کار کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے لیے بغیر چابی کے اگنیشن کا کوڈ حاصل کرنا آسان ہے کیونکہ اس کے لیے انٹرنیٹ پر ایک سادہ سا آلہ دستیاب ہے۔

بظاہر دیکھنے میں تو لگتا ہے کہ یہ مسئلہ دیکھی بھالی چیز کی جگہ کوئی ایسی جدید چیز استعمال کرنا ہے جس کے متعلق زیادہ معلومات نہ ہوں۔

لیکن سکیورٹی فرم تھیچم کے ریسرچ ڈائریکٹر میتھیو ایوری کہتے ہیں کہ رینج روور کے مسائل تو ایک ابتدائی مسئلہ ہے۔ اس کی بڑی تصویر یہ ہے کہ اب زیادہ تر نئی کاروں کو الیکٹرانک طریقے سے تالا لگایا جاتا ہے دھات کی چابی سے نہیں۔

ایوری کہتے ہیں کہ 80 فیصد سے زیادہ گاڑیاں کسی نہ کسی طرح کی الیکٹرانک چابیاں استعمال کرتی ہیں یا ان کے اگنیشن ہی چابی کے بغیر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں کوئی ایسی کار نہیں بنائی جائے گی جس میں دھات کی چابی استعمال کی جاتی ہو۔

’جہاں تک رینج روورز کے مسئلے کا تعلق ہے تو وہ بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔‘

ایوری کہتے ہیں کہ جب پہلے الیکٹرانک ’کار زیپرز‘ یا کاروں کو چوری سے بچانے والے سسٹم بنائے گئے تھے تو چور بند ہوتے تالے کی ’لوکنگ وائس‘ یا آواز کی فریکوینسی کو کاپی کر کے تالا کھول لیتے تھے۔ ’لیکن اب ریموٹ کنٹرولز محفوظ ہیں کیونکہ گاڑی کا تالا کھولتے یا بند کرتے ہوئے وہ ہر مرتبہ کوئی مختلف کوڈ استعمال کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لندن میں چابی کے بغیر چلنے والی رینج روورز کی چوری کی وارداتوں کے بعد اس کی انشورنس لینے میں مشکلات آ رہی ہیں

اگلا مرحلہ یہ آئے گا کہ ’کی فوب‘ یا چابی کو سمارٹ فون سے بدل دیا جائے اور گاڑی کو کھولنے کے لیے فون کے ذریعے کوڈ استعمال ہو۔

تقریباً جب سے زمین پر دروازے ہیں اس وقت سے ہی ان کی چابیاں بھی موجود ہیں۔ خیال ہے کہ یہ سب سے پہلے قدیم مصر میں استعمال کی گئی تھیں۔ جدید دور میں عام استعمال ہونے والی چابی لائنس ییل جونیر نے 1861 میں ایجاد کی تھی اور یہ تقریباً مصر میں 4,000 سال قبل استعمال ہونے والی چابی کا ’اپڈیٹڈ ورژن‘ تھا۔

ہوٹل کی صنعت میں سب سے پہلے دھات کی چابی سے چھٹکارہ حاصل کیا گیا۔ سنہ 1979 میں اٹلانٹا کے ایک ہوٹل میں سب سے پہلے ’کی کارڈ‘ استعمال کیے گئے۔ یہ ایک عام سا کارڈ تھا جس میں مختلف جگہ سوراخ تھے۔ یہ کارڈ بہت مقبول ہوا لیکن اس کی وجہ سکیورٹی نہیں بلکہ بجلی کی بچت تھی۔ کیونکہ مہمان صرف بتیاں اس وقت جلا سکتے تھے جب کارڈ ہولڈر میں رکھا ہوا ہو۔ اس سے ہوٹل کے سٹاف کو بھی پتہ چل جاتا تھا کہ مہمان کمرے میں ہے اور اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ اگر چابی گم جائے تو تالے کو بدلوانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اس کے بعد لندن سوائے ہوٹل، ڈورچیسٹر اور کلیرجز نے کی کارڈ استعمال کرنے شروع کر دیے بلکہ رٹز اور کئی دیگر ہوٹل تو انہیں استعمال کے بعد ضائع بھی کرنا شروع ہو گئے۔ اگلے سال امریکہ میں ہلٹن ہوٹل میں آنے والے مہمان کمرہ کھولنے کے لیے اپنے سمارٹ فون استعمال کر سکیں گے۔

کئی ہسپتالوں اور سکولوں میں بائیومیٹرک کی کارڈ استعمال کیے جا رہے ہیں۔

تو کیا اب لوگوں کے گھروں میں بھی چابی کے بغیر تالے جگہ لے لیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کچھ عرصہ بعد تقریباً سبھی کاریں چابی کے بغیر ہی سٹارٹ ہوا کریں گی

اس سال کے آغاز میں ایپل نے ’ہوم کٹ‘ کا اعلان کیا تھا جو کہ ایک ترقیاتی ڈھانچہ ہے جس کی مدد سے پروگرامر گھروں کے دروازے بند کرنے والی ایپس بنا سکیں گے۔

پہلے ہی ایک چیز ’آگسٹ سمارٹلاک‘ موجود ہے جس کے استعمال سے لوگ سمارٹ فون کے ذریعے گھروں کے دروازے کھول سکتے ہیں۔ بجلی جانے کی صورت میں پھر بھی روایتی چابی ہی استعمال کی جا سکتی ہے۔

لیکن اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ چابی کے بغیر سسٹم اور سمارٹ فونز تھیوری میں تو ٹھیک ہیں لیکن پورے گھر کو ان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

گارڈین اخبار کے ٹیکنالوجی کے نامہ نگار چارلز آرتھر کہتے ہیں کہ لوگ ہوٹلوں اور کاروں میں تو خوشی خوشی کارڈ اور سمارٹ فون استعمال کر لیتے ہیں لیکن جب گھر کی باری آتی ہے تو سکیورٹی کی بڑی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔

پراپرٹی کی ماہر سارہ بینے اس سے اتفاق کرتی ہیں۔ ان کے مطابق فنگر پرنٹنگ یا آنکھوں کی سکریننگ چاہے رواج پا جائے لیکن روایتی دھات کی چابی سے کوئی چیز بھی سستی نہیں ہو گی۔

لیکن لوگ کیش اور کریڈٹ کارڈز کے متعلق بھی پہلے اسی طرح ہی سوچتے تھے کہ ورچوئل منی اور آن لائن بینکنگ پر لوگ بھروسہ نہیں کریں گے۔ مگر اب یہ عام ہیں۔ کیا اسی طرح ہی لوگوں کا گھروں کی چابیوں کے متعلق بھی نظریہ بدل سکتا ہے؟

تبدیلی ناگزیر ہے۔ چابیاں کئی جگہوں پر نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔ لیکن گھروں کو بند کرنے کے لیے ہم اب بھی قدیم مصری ایجاد ہی استعمال کرتے ہیں۔

اسی بارے میں