سویڈن کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دنیا بھر میں سو کے قریب ملک پہلے ہی فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں

سویڈن نے سرکاری طور پر فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یورپی یونین میں شامل مغربی یورپ سے سویڈن پہلا ملک ہے جس نے فلسطین کو باقاعدہ طور پر علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

اس سے پہلے مشرقی یورپ اور بحیرۂ روم کے سات یورپی ممالک فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔

ان ممالک میں ہنگری، بلغاریہ، چیک رپبلک، مالٹا، پولینڈ، قبرص اور رومانیہ شامل ہیں۔ یورپی اتحاد سے باہر آئس لینڈ بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکا ہے۔

فلسطینی حکام نے سویڈن کے اعلان کو تاریخی قرار دیا ہے جبکہ اسرائیل نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے افسوس ناک قرار دیا ہے۔

سویڈن کی وزیرِ خارجہ مارکوت ولسٹوایم نے معروف روزنامہ داغنیز داہتر میں لکھا ہے: ’آج حکومت نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

اس سے پہلے سویڈن کے وزیراعظم نے ایک ماہ پہلے فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے منصوبے کے بارے میں بتایا تھا۔

سویڈش وزیر خارجہ نے مزید کہا: ’یہ ایک اہم قدم ہے جو فلسطین کے حق خود ارادی کی تصدیق کرتا ہے۔‘

سویڈن کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یروشلم کے مقبوضہ مشرقی علاقے میں فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے سویڈن کے فیصلے کو جرات مندانہ اور تاریخی قرار دیتے ہوئے دوسرے ممالک سے بھی اس تقلید کرنے کا کہا ہے۔

محمود عباس کے ترجمان نے ان کا بیان سناتے ہوئے کہا: ’دنیا کے ان تمام ممالک کو سویڈن کی پیروی کرنی چاہیے جو اب بھی سنہ 1967 کی سرحدوں کے تعین کے مطابق فلسطینی ریاست کی بنیاد پر ہماری آزادی کے حق کو تسلیم میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔‘

دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِ خارجہ نے سویڈن کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تنازعے کو حل کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برطانوی پارلیمان کا ایوان زیریں بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے تحریک کی منظوری دے چکا ہے

امریکہ نے بھی سویڈن کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ قبل از وقت ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کا حل اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہی نکل سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ سویڈن کے فیصلے پر دوسرے ممالک بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے ایسا قدم اٹھائیں گے۔

یونیورسٹی آف گوتھن برگ میں مشرق وسطیِٰ کے ماہر مائیکل شولیز کا کہنا ہے کہ ’ابھی یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ دوسرے ممالک سویڈن کی پیروی کریں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’یورپی یونین کی جانب سے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تمام رکن ممالک اس پر متفق ہوں اور ایسا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ اسرائیل اس پر کیسے درعمل کا اظہار کرتا ہے اور کیا نئی بستیوں کی تعمیر جاری رکھتا ہے یا احتیاط کا مظاہرہ کرتا ہے۔‘

سنہ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل نے غرب اردن کے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس نے ان علاقوں میں سو سے زائد تعمیرات کر کے پانچ لاکھ یہودیوں کو بسایا ہے۔ عالمی قوانین کے مطابق اس طرح کی بستیاں غیر قانونی ہیں، لیکن اسرائیل اس سے اختلاف رکھتا ہے۔

مغربی کنارے پر تقریباً 25 لاکھ فلسطینی بھی آباد ہیں۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں سو کے قریب ملک پہلے ہی فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں جبکہ رواں ماہ ہی برطانیہ کی پارلیمان کے ایوان زیریں نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے حق میں ایک تحریک بھاری اکثریت سے منظور کی تھی۔

اسی بارے میں