برکینا فاسو کی پارلیمنٹ نذرِ آتش، اقتدار جنرل کے پاس

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بلاثیے کمپورے 1987 میں اقتدار پر فائز ہوئے تھے

افریقی ملک برکینا فاسو میں 27 سال سے اقتدار میں صدر بلاثیے کمپورے نے پرتشدد مظاہروں کے بعد مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے صدر کی جانب سے اپنے عہدے کی مدت میں توسیع کے فیصلے کے بعد دارالحکومت واگاڈوگو میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

صدر بلاثیے کمپورے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر کا عہدہ خالی کر دیا گیا ہے اور 90 روز کے اندر انتحابات منعقد کیے جائیں گے۔

فوج کے سربراہ جنرل اونئے ٹرورئی نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کا اعلان کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فوج کے ہیڈ کوارٹر کے باہر جب فوج کے ترجمان نے صدر بلاثیے کمپورے کے مستعفی ہونے کی خبر سنائی تو وہاں جمع مظاہرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

صدر کی جانب سے ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت ملک میں طاقت کا خلا موجود نہیں اور شفاف، آزادانہ انتخابات 90 روز کے اندر اندر منعقد ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر کمپورے کے اقتدار کو طول دینے کے اعلان پر پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے تھے

مستعفی ہونے والے صدر بلاثیے کمپورے کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ اقتدار سے علیحدگی کے بعد کہاں گئے ہیں۔

جمعرات کو صدر بلاثیے کمپورے کی جانب سے اپنے عہدے کی مدت میں مزید توسیع اور آئین میں ترمیم کے اعلان پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور مشتعل مظاہرین نے پارلیمان اور دیگر حکومتی عمارتوں کو نذرآتش کر دیا تھا۔

ان مظاہروں کے بعد صدر نے اپنے عہدے میں توسیع کا فیصلہ واپس لینے کا اعلان کیا تھا تاہم انھوں اصرار کیا کہ عبوری حکومت کی سال 2015 تک اپنی ذمہ داریاں پورے کرنے تک وہ عہدے پر فائز رہیں گے۔

تاہم ان کے اس اعلان کے باوجود حزب اختلاف نے استعفے کے مطالبے پر مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا اور اپوزیشن رہنما زیبرن ڈیاوبرا نے مظاہرین کو حکومتی املاک پر قبضہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

بلاثیے کمپورے نے 1987 میں صدر تھامس سنکارا کی فوجیوں کے ایک گروپ کے ہاتھوں پراسرار ہلاکت کے بعد اقتدار سنبھالا تھا اور ان کے دور اقتدار میں پہلے صدارتی انتخابات سال 1991 میں جب کہ دوسرے 1998 میں منعقد ہوئے تھے۔