داعش کے جنگجوؤں نے 50 خواتین اور مردوں کو گولی مار دی

Image caption دولت اسلامیہ کے جنگجو عراق اور شام کے ایک وسیع علاقے پر اپنا تسلط قائم کیے ہوئے ہیں

دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے عراق کے مشرقی صوبے انبار میں ایک قبیلے کے پچاس افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق البونمر قبیلے کے مردوں اور عورتوں کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤ ں کی مخالفت کرنے کی پاداش میں قطار میں کھڑا کر کے گولیاں مار دی گئیں۔

اس قبیلے کے متعدد افراد کی لاشیں ایک اجتماعی قبر سے اس ہفتے کے اوائل میں برآمد ہوئی تھیں۔

دولت اسلامیہ کے جنگجو عراق اور شام کے ایک وسیع علاقے پر اپنا تسلط قائم کیے ہوئے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟ دیکھیے قندیل شام کی رپورٹ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

دریں اثنا فرانسیسی خبر رساں ادارے نے سیرین آبزویٹری گروپ کے حوالےسے اطلاع دی ہے کہ شام کی سرحد کے قریب کوبانی کے شہر میں گزشتہ تین دن کی لڑائی میں داعش کے سو سے زیادہ جنگجو ہلاک ہو گئِے ہیں۔

جمعہ کے روز کرد پیشمرگا کے ڈیڑھ سو کے قریب سپاہی ترکی کی سرحد عبور کر کے کوبانی میں داعش کے جنگجوؤں سے گزشتہ چھ ماہ سے نبرد آزما شامی کردوں میں شامل ہوگئے۔

سیرین آبزویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ کوبانی میں لڑائی میں اب تک 950 افراد مارے جا چکے ہیں جن میں سے نصف داعش کے جنگجو تھے۔

ایک مقامی سرکاری اہلکار نے امریکی خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ سنی قبائلیوں اور ان کی خواتین کو جمعہ کو راس الما کے گاؤں میں ہلاک کیا گیا۔

البونمر قبیلے کے لوگوں نے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف شیعہ اکثریتی حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس طرح کے اور بھی واقعات ہوئے ہیں کیونکہ مقامی قبائل کی وفاداریاں حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ داعش لوگوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے اس طرح کا قتل عام کر رہی ہے۔

ایک اور مقامی اہلکار صبا خروت نے کہا کہ انبار کے صوبے میں رونما ہونے والا واقع انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ داعش کے خلاف برسرپیکار سنی قبائل کی مدد کریں۔

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا کہ سنی قبائل کا قتل عام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ’ہم کتنی خوفناک حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔‘