لندن کے نیچے آباد دنیا

تصویر کے کاپی رائٹ EMMA LYNCH

لندن شہر کی عظیم تعمیرات کے نیچے زیرِ زمین سرنگوں کی بھول بھلیوں کی ایک دنیا آباد ہے۔ بی بی سی نیوز نے اس زیرِ زمین دنیا میں جا کر کچھ نایاب نظارے عکس بند کیے ہیں۔

بالہم ہل سٹیشن کے اندر ایک سیاہ دروازے کے عقب سے نیچے جاتی ہوئی 178 گرد آلود سیڑھیاں نیچے جانے کا واحد راستہ ہیں۔ یہاں سے ہوتے ہوئے ہم ناردرن لائن سے ایک سو فٹ گہرائی میں پہنچے۔

روشنی جلائی گئی تو ہم نے خود کو ایک گرد آلود سرنگ میں پایا۔ یہاں ہلکی سی بو کے ساتھ ٹھنڈی ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔ اوپر ٹیوب ٹرینوں کے چلنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EMMA LYNCH

کیلپم ساؤتھ کا یہ راستہ شمالی اور جنوبی لندن کو ملانے کے لیے ایک نئے ریل منصوبے کے تحت بنایا گیا ہے۔

یہ سرنگیں جنگ عظیم دوم میں ہاتھوں سے کھودی گئی تھی اور انھیں فضائی حملوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

یہاں آٹھ ہزار لوگوں کے رہنے کی گنجائش تھی اور یہاں بیت الخلا کی سہولت، نگہداشت کا مرکز اور کینٹین تھی جس میں جیم اور سینڈوچ دیے جاتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EMMA LYNCH

کلیپھم ساؤتھ کے گہرے شیلٹر یا پناہ گاہ کو ایک نئے ریلوے نظام کے لیے بنایا گیا تھا جو لندن کے شمالی حصوں کو جنوبی حصوں سے ملانے والا تھا۔

لندن کے زیرِ زمین ریلوے کے ڈائریکٹر آپریشنز نائجل ہولنس نے بتایا کہ ’یہ اس دور کا کراس ریل منصوبہ تھا۔ مگر ہمارے آبا و اجداد اتنے دوراندیش نہیں تھے اور نہ ہی ان کے پاس اتنا پیسہ تھا کہ وہ اسے مکمل کر سکتے۔‘

اس کے بعد ہم ایک اور سرنگ میں داخل ہوتے ہیں جہاں دیوار کے ساتھ چھوٹے سخت بنک بیڈ قطار میں لگے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EMMA LYNCH

لندن انڈر گراؤنڈ کے فلپ ایش کا کہنا تھا کہ ’حکومت کے لیے بڑا خدشہ یہ تھا کہ کہیں اس کے نتیجے میں غار نشینی کا رجحان شروع نہ ہو جائے۔ غاروں میں زیرزمین رہنا برطانوی ثقافت کا حصہ نہیں تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EMMA LYNCH

1948 میں جب جہاز ایمپائر ونڈ رش برطانیہ آیا جس پر 400 جمیکن سوار تھے تو ان سرنگوں کو ایک بار پھر استعمال میں لایا گیا۔

مگر جو برطانیہ انھوں نے دیکھا وہ ان کی توقعات سے بہت مختلف تھا۔ جب وہ ٹلبری پہنچے تو ان نوواردوں کو بسوں میں سوار کروا کر ان پناہ گاہوں میں لایا گیا اور جب تک انھیں نئی رہنے کی جگہ نہیں ملی، انھوں نے اگلے چھ مہینے تک ان گہری زیر زمین پناہ گاہوں میں گزارے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اس کی ایک وجہ اس علاقے کے قریب ایک بہت بڑی افریقن کیریبئن کمیونٹی ہے جنھوں نے قریبی برکسٹن کے علاقے میں کام کرنا شروع کیا اور بہت سے لوگ یہاں رہ گئے۔

اب یہ پناہ گاہ برائے فروخت ہے اور لندن انڈرگراؤنڈ لوگوں سے تجاویز کا متلاشی ہے کہ انھیں کیسے استعمال میں لایا جائے۔

لندن کے سات دوسرے شیلٹر ساز و سامان ذخیرہ کرنے کے لیے کرائے پر دیے گئے ہیں جبکہ ایک کو تو مشہور شیف میچل روکس جونیئر کو زیرِ زمین فارم بنانے کے لیے کرائے پر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EMMA LYNCH

اگلے زیرِ زمین دورے میں ہم ایک تنگ نیم تاریک پتوں میں گھری سیڑھی کے راستے مرکزی لندن میں ایک پلیٹ فارم پر پہنچے۔ یہ زمین کی سطح سے 20 سیڑھیاں نیچے ہے اور پھر اس کے بعد صرف ایک قدم نیچے ریل کی پٹڑی ہے۔

یہ وہ جگہ نہیں جہاں آپ کو امید ہو کہ یہاں یورپ کا سب سے بڑا تعمیراتی منصوبہ زیرِ تکمیل ہو گا جسے کراس ریل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تاہم کنگز وے کی ٹرام سرنگ نے اس منصوبے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اس سرنگ کے ذریعے مسافر ایک زمانے میں ہولبورن سے واٹرلو کے پُل پر جاتے تھے۔ تاہم یہ گذشتہ 60 سال سے عدم توجہی کا شکار ہے البتہ اسے بعض اوقات فلموں کے سیٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

دیواروں سے لٹکے پوسٹر یونین سٹریٹ کے لندن انڈرگراؤنڈ کے سٹیشن کا خیالی منظر پیش کرتے ہیں۔

کراس ریل کے لیے ارد گرد کی عمارتوں کو تقویت دینے کے لیے یہاں کنکریٹ ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ تعمیراتی کام سے متاثر نہ ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EMMA LYNCH

یہاں بڑی کھدائی کی مشینیں کام میں مصروف ہیں، اور لندن انڈر گراؤنڈ کے اہلکار ہمیں بتاتے ہیں کہ اس زیرِ زمین کام کی کتنی اہمیت ہے اور اس میں ان سرنگوں نے اس سہولت کی فراہمی میں کتنا اہم کردار ادا کیا ہے۔