برکینا فاسو میں فوج کے اقتدار سنبھالنے کے خلاف احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیفٹنٹ کرنل یعقوبا اسحاق ضدا معزول صدر کے محافظوں کے نائب نگران تھے

افریقی ملک برکینا فاسو میں حزب اختلاف نے فوج کے اقتدار پر قبضے کے خلاف اتوار کے روز وسیع پیمانے پر احتجاج کی کال دی ہے جبکہ مسلح افواج نے لیفٹیننٹ کرنل یعقوب اسحاق ضدا کو عبوری حکمران کے طور پر منتخب کیا ہے۔

حزبِ اختلاف کے جماعتوں اور مختلف تنظیموں نے معزول صدر بلاز کمپاؤرے کے اقتدار چھوڑنے کے بعد کے عبوری نظام پر فوج کے قبضے کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے جن کا مطالبہ ہے کہ یہ عوام کا حق ہے۔

لیفٹیننٹ کرنل اسحاق معزول صدر کے صدارتی محافظوں کے نائب کمانڈر ہیں۔

معزول صدر کمپاؤرے ملک سے فرار ہو کر آئیوری کوسٹ پہنچ گئے ہیں۔

حزبِ اختلاف کے گروہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’عوام کی جانب سے مقبول بغاوت کی فتح عوام کی ہے اور عبوری نظام کا انتظام بھی عوام کا حق ہے۔ فوج اسے کسی بھی طرح قبضے میں نہیں لے سکتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک کی حزبِ اختلاف جو معزول صدر کے تین دہائیوں کے اقتدار کی وجہ سے کمزور ہے نے اتوار کو احتجاج کی کال دی ہے

گذشتہ ہفتے جب صدر بلاز کمپاؤرے نے آئین میں ترمیم کے ذریعے اقتدار پر اپنے قبضے کو طوالت دینے کی کوشش کی تو اُن کے خلاف شدید مظاہرے ہوئے۔

جمعرات کو مظاہرین نے دارالحکومت واگاڈوگو پارلیمان اور حکومتی عمارتوں کو آگ لگا دی تھی۔

Image caption بلاز کمپوئرے کے اقتدار چھوڑنے کے بعد پہلے فوج کے سربراہ جنرل اونورے ٹرورے نے اپنے آپ اقتدار کا مالک قرار دیا

بی بی سی کے نامہ نگار ٹوما فیسی جو ہمسایہ ملک سینیگال سے صوتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں کا کہنا ہے کہ عوام میں تشویش بڑھ رہی ہے کہ کہیں فوجی بغاوت حالات کا پانسہ فوج کے حق میں نہ پلٹ دے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں ایک صدر تین دہائیوں تک سیاسی منظر پر حاوی رہا ہو حزبِ اختلاف بہت کمزور ہے اور ان احتجاجی جلوسوں میں آنے والے لوگوں سے ان کے عزائم اور قوت کا اندازہ ہو سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس کے بعد لیفٹنٹ کرنل ضدا کی جانب سے حکومت کا انتظام سنبھالنے کا اعلان سامنے آیا جس پر فوج کے سربراہ کے دستخط تھے

اس کے علاوہ فوج کا ردِ عمل ظاہر کرے گا کہ فوج عوام کی خواہشات کا احترام کرتی ہے کہ نہیں۔

ملک کے آئین کی رو سے سینیٹ کا صدر ملک کے صدر کے استعفے کی صورت میں حکومت کا انتظام سنبھالتا ہے اور 60 سے 90 دنوں میں انتخاب کا انعقاد کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اتوار کو جلوسوں اور احتجاج میں باہر نکلنے والے افراد کی تعداد اور فوج کا ردِ عمل صورتحال کو واضح کرے گا

افریقی اتحاد نے زور دیا ہے کہ ’سویلین رہنماؤں کی سرکردگی میں عبوری انتظام‘ چلایا جائے اور اس کے فوری بعد جلد از جلد ’شفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔‘

ایک بیان میں افریقی اتحاد کے سربراہ نے فوج پر زور دیا کہ وہ ’ایسی اقدامات اور بیانات سے پرہیز کرے جن سے حالات مذید غیر مستحکم ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption مظاہرین نے جمعرات کو پارلیمان اور حکومتی عمارتوں کو آگ لگا دی گئی

لیفٹیننٹ کرنل ضدا کے سامنے آنے سے قبل مبصرین کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹے تک فوج کے اندر اقتدار کی کشمکش چلتی رہی جس کے بعد فوج کا بیان سامنے آیا جس پر فوج کے سربراہ جنرل اونورے ٹرورے نے دستخط کیے تھے جنہوں نے صدر کمپاؤرے کے جانے کے فوری بعد اپنے آپ کو ریاست کا سربراہ قرار دیا تھا۔

بلاز کمپاؤرے نے 1987 میں صدر تھامس سنکارا کی فوجیوں کے ایک گروپ کے ہاتھوں پراسرار ہلاکت کے بعد اقتدار سنبھالا تھا اور ان کے دور اقتدار میں پہلے صدارتی انتخابات سال 1991 میں جب کہ دوسرے 1998 میں منعقد ہوئے تھے۔

اسی بارے میں