ملاّ، حافظ شیرازی اور بدلتا ایران

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption صوفی چو تو رسـم رہروان می‌دانی ۔۔بر مردم رند نـکـتـہ بـسیار مـگیر

چودھویں صدی کے مشہور شاعر حافظ کا دیوان ایران کے تقریباً ہر ایک گھر میں موجود ہوتا ہے اور کیوں نہ ہو۔اپنے انتقال کے چھ سو سال بعد بھی اس عظیم شاعر کے کلام میں آپ کو آج کے ایران کی شناخت بھی نظر آتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ آپ کو ہر ایرانی گھر میں دو کتابیں ضرور ملیں گی، ایک قرآن اور دوسرا دیوان حافظ۔۔ان میں سے ایک کتاب لوگ پڑھتے ہیں اور دوسری نہیں۔

اس لطیفے کو سمجھنے کے لیے آپ کو اس سے زیادہ کچھ نہیں کرنا کہ آپ شیراز میں حافظ کے مزار پر پہنچ جائیں اور ان لاکھوں لوگوں میں شامل ہو جائیں جو ہردوسرے روز یہاں پہنچے ہوتے ہیں۔

کچھ دن پہلے ایک سہ پہر میں نے بھی ایسا ہی کیا اور حافظ شیرازی کے مزار پر جا پہنچا۔

مزار پر خوب چہل پہل تھی اور ہر کوئی خوشگوار ماحول سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ کسی کو کہیں جانے کی جلدی نہیں تھی۔

دن ہو یا رات، گلاب کے باغوں، جھرنوں اور سنگترے کے درختوں میں گھرا ہوا یہ خوبصورت مزار عقیدت مندوں سے بھرا رہتا ہے جو سنگِ مرر کی قبر پر ہاتھ مار مار کر ایک دوسرے کو حافظ کے شعر سنا سنا کر سر دھنتے، داد دیتے اور داد پاتے نہیں تھکتے۔

حافظ کی شاعری میں آپ کو ایرانی شناخت کی تمام پیچیدگیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ملک کی مادری زبان فارسی میں پروئے ہوئے حافظ کے ردیف، قافیے اور استعارے ایرانیوں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔

لیکن شیراز کے اس خوبصورت مزار کی وجہ شہرت محض حافظ کے ردیف و قافیے ہی نہیں، بلکہ کچھ اور بھی ہے۔

آج کے ایران کی اسلامی مملکت میں طاقتور طبقے کے خلاف مزاحمت کوئی آسان کام نہیں۔

حکمران مذہبی اشرافیہ نے ایرانی حکومت اور معاشرے پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ مخالفین کو دبانے کے لیے مذہبی اشرافیہ اسلامی انقلاب کے نعرے استعمال کرتی ہے۔ اگرچہ صدر حسن روحانی کے مسکراتے چہرے سے دنیا کو ایک اچھے ایران کی شبہیہ دکھائی دیتی ہے، لیکن ملک کے اندر ہر کسی کا یہی کہنا ہے کہ معاملات مزید بگڑ چکے ہیں، جبر میں اضافہ ہو چکا ہے اور جتنی پھانسیاں آج کل دی جا رہی ہیں اتنی پہلی کبھی نہیں دی گئیں۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایرانیوں نے ریاستی اور مذہبی دباؤ کے خلاف مزاحمت کرنا ترک کر دیا ہے۔حافظ کے مرہون منت، شیراز آج بھی ایران کا سب سے زیادہ آزاد خیال شہر ہے۔

یہ جاننے کے لیے آپ کو خواتین کے لباس اور تراش خراش کو دیکھنا چاہیے جس سے حافظ کے مزار اور اس شہر کے ماحول کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اگرچہ یہاں بھی خواتین سر ڈھانپنے کی سرکاری پابندی سے روگردانی نہیں کرتیں، لیکن ایرانی معیار کو سامنے رکھیں تو شیراز کی خواتین کے لباس بے پردگی کی حدوں کو چھوتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہاں بھی ہر خاتون سر پر سکارف تو لیتی ہے، لیکن یہ سکارف سیاہ نہیں ہوتا بلکہ خواتین نہایت رنگین سکارف پہنتی ہیں۔ یہ رنگین سکارف بھی پورے سر پر نہیں ہوتا بلکہ سر کے پچھلے حصے پر بس لٹک رہا ہوتا ہے۔ جوان لڑکیاں سیاہ رنگ کے تنگ موزہ نما پاجامے (لیگنگز) پہنے دکھائی دیتی ہیں اور ان تنگ لیگنگز کے اوپر چھوٹی چھوٹی تنگ کوٹیاں۔ ہر لڑکی کی کوشش یہی ہے کہ وہ دوسری سے زیادہ تنگ اور چھوٹی کوٹی پہنے۔

ایرانی قانون کہتا ہے کہ خواتین ایسا لباس پہنیں کہ ان کا جسم عیاں نہ ہو، لیکن شیراز کی خواتین کی پوری کوشش ہے کہ ان کے پیچ وخم مزید ابھر کر سامنے آئیں۔ یہاں مرد اور خواتین کے گروہ آپس میں خوب گپیں ہانکتے، قہقے لگاتے دکھائی دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption رنگین سکارف بھی پورے سر پر نہیں ہوتا بلکہ سر کے پچھلے حصے پر بس لٹک رہا ہوتا ہے

قصہ مختصر یہ کہ شیراز میں آپ کو ہر کوئی ان تمام پابندیوں کی مخالفت کرتا ہی دکھائی دے گا جو ملک کی اشرافیہ عوام پر لگانا چاہتی ہے۔

میں وہیں کھڑا تھا کہ ایک مشہور اداکار مزار پر حاضری کے لیے آیا اور وہاں کھڑے پرجوش شائقین نے اسے گھیر لیا۔ بالکل اسی طرح جیسے دنیا میں ہالی وڈ کے کسی اداکار کو اس کے چاہنے والے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔

جوں ہی سورج غروب ہوتا ہے، مزار قمقموں سے جگمگا اٹھتا ہے اور یہاں کا ماحول مزید جوبن پر آ جاتا ہے۔لوگ بلند آواز میں اپنی اپنی پسند کے اشعار گانا شروع کر دیتے ہیں۔

شعر و شاعری کی اس محفل کے دوران تالاب کے ٹھنڈے پانی میں پاؤں لٹکائے ہوئے بچوں کی ہنسی، ان کا ایک دوسرے پر پانی کے چھینٹے پھینکنا، والدین کے جوشِ شاعری کے لیے مہمیز کا کام کرتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حافظ کے مزار کا منظر ایرانی معاشرے میں پائے جانے والے تضادات پر پردہ ڈال دیتا ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایران میں کچھ عجیب قسم کی تبدیلیاں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا سہرا ملاّؤں کی تعلیمی پالیسی کے سر جاتا ہے جس کے تحت ملک میں تعلیم عام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حافظ نے مذہبی منافقت کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے

عـشـق رخ یار بر مـن زار مـگیر بر خـسـتـہ دلان رند خـمار مـگیر صوفی چو تو رسـم رہروان می‌دانی بر مردم رند نـکـتـہ بـسیار مـگیر

(مجھے اس حسین چہرے کی محبت میں گرفتار نہ کر، مے نوش اور ساقی کو بغلگیر نہ ہونے دے۔ اے صوفی تو اس راہ کو جانتا ہے، اس لیے تُو تو محبت کرنے والوں پر تنقید نہ کر)

آج کل ایران میں یونیورسٹیوں سے تعلیم مکمل کرنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ ہے۔ ملک میں شرح پیدائش اس قدر نیچے آ چکی ہے کہ لوگ ایک سے زیادہ بچے پیدا نہیں کر رہے۔ یہاں تک کہ حکومت نے ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے والدین کو مالی فوائد دینے کا اعلان کر رکھا ہے، لیکن اس کے باوجود اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ بچے پالنا اتنا مہنگا ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بچے نہیں کرنا چاہتے۔

مغرب کو ایک ہی فکر ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام کہاں تک پہنچا ہے، لیکن یہ بھی کوئی راز نہیں ہے کہ ایرانی کی مذہبی اشرافیہ اور بااثر کاروباری لوگ ایران پر معاشی پابندیوں کے باوجود خوب پیسے بنا رہے ہیں۔

ایرانی قالین کا سودا کرتے وقت مجھے یہ سوچ کر ہچکچاہٹ ہو رہی تھی کہ میرے پاس نقد رقم کم ہے اور میرا کریڈٹ کارڈ ایران میں کام نہیں کرے گا۔ قالین فروش میری ہچکچاہٹ پر بالکل فکر مند ہوا، بلکہ اس نے فوراً دبئی میں اپنے ایک دوست کو فون کیا جس نے فون پر ہی میرے کریڈٹ کارڈ پر قالین کی قیمت چارج کر لی۔

ملاّؤں کی بدقسمتی یہ ہے کہ حافظ نے عشق اور شراب کی شان میں قصیدے کہنے کے علاوہ، مذہبی منافقت کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔

چھ سو برس پہلے حافظ نے کہہ دیا تھا کہ ’ممبر و مسجد میں کھڑے جو مبلغ اپنی پارسائی کی نمائش کرتے نہیں تھکتے، تنہائی میں کچھ اور ہی کرتے ہیں۔ وہ جو ہمیں ہر وقت توبہ کا سبق دیتے ہیں، خود اس پر عمل کیوں نہیں کرتے۔‘

جہاں تک پابندیوں کا تعلق ہے تو ایران میں بی بی سی سمیت بہت سے چیزوں پر پابندی ہے، لیکن اس کے باوجود ملک میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والا ٹی وی چینل بی بی سی فارسی ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر، گوگل پلس اور انسٹاگرام، تمام پر سرکاری طور پر پابندی ہے۔

صدر روحانی کہتے ہیں کہ وہ انٹرنیٹ پر پابندیوں میں نرمی کرنے جا رہے ہیں، لیکن ان معاملات میں حرفِ آخر صدر نہیں بلکہ ملک کے روحانی رہنما ہیں اور ابھی تک رہبر اعلیٰ کی جانب سے کسی نرمی کا کوئی اشارہ نہیں ہوا ہے۔

ان حالات میں اس بات میں ہمیں کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ کچھ ایرانی حافظ کی شاعری میں ہی پناہ لے رہے ہیں۔

ملک کے ملاّ بھی اپنے قومی شاعر پر پابندی نہیں لگا سکتے۔

اسی بارے میں