برکینا فاسو:’فوج دو ہفتوں میں اقتدار سویلین کے حوالے کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لیفٹیننٹ کرنل یعقوب اسحاق ضدا نے سفارت کاروں اور صحافیوں کو بتایا کہ فوج اقتدار پر قابض رہنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی

افریقی ممالک کی اتحاد ایفریقن یونین نے برکینا فاسو کی فوج کو ملک کا اقتدار سول حکام کے حوالے کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی ہے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں اسے پابندیوں کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے۔

ایفریقن یونین نے کہا کہ جمعے کو صدر بلاز کمپاؤرے کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے کے بعد فوج نے اقتدار پر قابض ہو کر غیر آئینی اقدام اٹھایا۔

فوج کا کہنا ہے کہ سول حکام کی سربراہی میں جلد از جلد ایک عبوری حکومت قائم کی جائے گی۔

گذشتہ ہفتے جب صدر بلاز کمپاؤرے نے آئین میں ترمیم کے ذریعے اقتدار پر اپنے قبضے کو طوالت دینے کی کوشش کی تو اُن کے خلاف شدید مظاہرے ہوئے جس کے نتیجے میں اُن کے 27 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا۔

اس کے بعد سنیچر کو مسلح افواج نے لیفٹیننٹ کرنل یعقوب اسحاق ضدا کو عبوری حکمران کے طور پر منتخب کیا تھا۔

ایتھوپیا میں ایفریقن یونین کے امن و سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد تنظیم کے ترجمان سیمون اویانو ایسونوہی نے کہا کہ صدر بلاز کمپاؤرے عوامی انقلاب کے نتیجے میں مستعفی ہوئے لیکن فوج کی طرف سے حکومت کا کنٹرول سنبھالنا جمہوریت کے خلاف تھا۔

ایسونوہی نےخبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ’اگر فوج نے دو ہفتوں میں میں اقتدار چھوڑا تو ایفریقن یونین برکینا فاسو کے خلاف پابندیاں عائد کر دے گی۔‘

ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں بی بی سی کے نامہ نگار امینئل اگیونزا نے کہا کہ پابندیاں میں برکینا فاسو کی ایفریقن یونین یا اے یو کی ممبر شپ ختم کرنا اور اس کے فوجی حکام پر سفری پابندیاں لگانا شامل ہو سکتیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس مسئلے پر بچث کے لیے اے یو کی امن و سلامتی کونسل کا دبارہ اجلاس دو ہفتوں میں متوقع ہے

ادھر لیفٹیننٹ کرنل یعقوب اسحاق ضدا نے ملک کے دارالحکومت میں سفارت کاروں اور صحافیوں کو بتایا کہ فوج اقتدار پر قابض رہنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج چاہتی ہے کہ سول حکام پر مشتمل ایک عبوری انتظامیہ حکومت سنبھالے۔ کرنل ضیدا نے کہا فوج سول انتظامیہ کے ساتھ کام کرے گی۔

خیال رہے کہ بلاز کمپاؤرے نے 1987 میں صدر تھامس سنکارا کی فوجیوں کے ایک گروپ کے ہاتھوں پراسرار ہلاکت کے بعد اقتدار سنبھالا تھا اور ان کے دور اقتدار میں پہلے صدارتی انتخابات سال 1991 میں جب کہ دوسرے 1998 میں منعقد ہوئے تھے۔

اسی بارے میں