ترکی: کشتی ڈوبنے سے 24 تارکین وطن ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے پہلے بھی تارکینِ وطن کی کشتیوں کو حادثات پیش آ چکے ہیں جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے

ترکی کے شہر استنبول کے شمالی ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے سے کم سے کم 24 افراد ہلاک اور بیشتر لاپتہ ہو گئے ہیں۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ حادثہ اس جگہ پیش آیا جہاں باسفورس اور بحیرۂ اسود ملتے ہیں۔ جائے حادثہ پر بحری اور فضائی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

اب تک ان تارکینِ وطن کی قومیت کے بارے کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں تارکینِ وطن کی کشتی کا پایا جانا غیر معمولی بات ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تارکینِ وطن یورپی یونین کے رکن ملک رومانیہ جانا چاہتے تھے۔

دو ماہ قبل تارکینِ وطن کے ایک اور گروہ کو ترکی کے کوسٹ گارڈز نے بچایا تھا۔ ان میں زیادہ تر شامی اور افغان باشندے تھے۔ یہ بھی یورپی یونین جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

اخبار حریت ڈیلی نیوز نے ایک امدادی کارکن کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’تیز ہوا کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ یہ کشتی بہت چھوٹی تھی لیکن اس میں 40 افراد کو لے جایا جا رہا تھا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ سمندر میں بچوں کی لاشیں تیر رہی ہیں۔‘

بحیرۂ اسود میں سات کوسٹ گارڈ کشیاں اور ایک ہیلی کاپٹر پانچ کلومیٹر کے احاطے میں امدادی کارروائی میں مصروف ہیں۔

شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے ہزاروں تارکینِ وطن یورپی یونین پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں