’پاکستان بھارت و افغانستان کے خلاف شدت پسندوں کو استعمال کر رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رپورٹ کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن کابل اور اسلام آباد ابھی تک ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں

امریکی محکمۂ دفاع نے ایک نئی رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ پاکستان اب بھی بھارت اور افغانستان کے خلاف شدت پسند تنظیموں کو استعمال کر رہا ہے اور یہ بات پورے خطے کے استحكام کے لیے خطرناک ہے۔

پینٹاگون کی طرف سے امریکی کانگریس کے لیے ہر چھ ماہ جاری کی جانے والی اس رپورٹ کے مطابق: ’پاکستان ان پراکسی فورسز یا بالواسطہ لڑنے والی طاقتوں کا استعمال افغانستان میں اپنے گھٹتے ہوئے اثر رسوخ کی وجہ سے اور بھارت کی بہتر فوجی طاقت کے خلاف حکمتِ عملي کے طور پر کر رہا ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سرحد کے اندر چھپے طالبان اب بھی افغانستان میں حملے کر رہے ہیں اور یہ کہ پاکستان افغانستان دوطرفہ تعلقات کے لیے مشکلیں پیدا کر رہا ہے۔

پینٹاگون کی طرف سے چھ ماہ پہلے جاری رپورٹ میں بھی پاکستان پر اس طرح کے الزام لگائے گئے تھے لیکن اس رپورٹ میں پہلی بار کہا گیا ہے کہ پاکستان ان شدت پسندوں کو ہندوستان کی بہتر فوج کے خلاف حكمتِ عملي کی طور پر استعمال کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے فی الحال اس پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ پاکستان پر پہلے جب بھی اس طرح کے الزام لگائے گئے تھے تو اس نے اسے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک خود ہی دہشت گردی کا شکار ہے۔

پاکستان کہتا رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جتنی قربانیاں پاکستان نے دی ہیں اتنی شاید ہی کسی اور ملک نے دی ہوں۔

رپورٹ میں نریندر مودی کی تاج پوشی کے وقت افغانستان کے ہرات شہر میں بھارتی كونسلیٹ پر حملے کا بھی ذکر ہے۔

رپورٹ کے مطابق: ’نریندر مودی ہندو قوم پرست تنظیموں کے قریب مانے جاتے ہیں اور ممکن ہے کہ اسی وجہ سے ان کی تاج پوشی کے وقت یہ حملہ ہوا۔‘ اس حملے کا الزام لشکر طیبہ پر لگا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری ہے اور تحریک طالبان پاکستان اور غیر ملکی جنگجوؤں کے خلاف پاکستانی فوج کو کامیابیاں بھی ملی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن کابل اور اسلام آباد ابھی تک ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ایک مستحکم افغانستان پاکستان کے حق میں ہے، لیکن پاکستان کابل میں پشتونوں کی بھی خاصی نمائندگی چاہتا ہے تاکہ پاک افغان سرحد پر پشتونوں میں ناراضگی پیدا نہ ہو اور بھارت کے اثر کو روکا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان اور پاکستان کے تعلقات خطے کے استحكام کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

اسی بارے میں