سعودی عرب میں یوم عاشور کے موقعے پر فائرنگ، پانچ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں

سعودی عرب میں حکام کے مطابق یوم عاشور کے موقعے پر نقاب پوش مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور نو زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق فائرنگ کا واقعہ پیر کو مشرقی صوبے الاحسا کے شہر الدالوہ میں پیش آیا۔

سعودی عرب کے اس مشرقی خطے میں شیعہ آبادی کی اکثریت ہے۔

پولیس کے ترجمان کے مطابق پستولوں اور خودکار ہتھیاروں سے لیس تین نقاب پوش افراد نے ایک عمارت سے نکلنے والے لوگوں پر فائرنگ شروع کر دی۔

فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے۔ سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چھ لوگوں کو الدالوہ حملے کے سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔

پولیس کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاہم حکام کی جانب سے ابھی تک کسی گرفتاری یا واقعے کے محرکات کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ فائرنگ امام بارہ گاہ کے اندر یوم عاشور کی تقریب کے شرکا پر کی گئی۔

سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف کی اکثریتی آبادی شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے جو سعودی عرب میں اقلیت ہیں۔

اُن کا دعویٰ ہے کہ انھیں ملک کے سنی حکمرانوں کے فرقہ وارانہ امتیاز کا سامنا ہے اور علاقے کے قدرتی وسائل سے پیدا ہونے والی دولت کا فائدہ بھی انھیں کم پہنچتا ہے۔

قطیف میں 2011 کے اوائل میں شورش شروع ہو گئی تھی۔ مظاہرین اُن نو افراد کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے جنھیں مقدمہ چلائے بغیر کئی برسوں سے قید رکھا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ ہی ایک عدالت نے ملک کے معروف شیعہ عالم آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔

شیعہ رہنما 2011 میں ملک کے مشرقی صوبے قطیف میں ہونے والے حکومت مخالف عوامی مظاہروں کے بڑے حامیوں میں سے ایک تھے۔

اسی بارے میں