امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں نظریں سینیٹ پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق صدر اوباما اقتدار سنبھالنے کے بعد مقبولیت کی کم ترین سطح پر ہیں

امریکہ میں منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات طے کریں گے کہ سینیٹ کس کے کنٹرول میں رہے گی اور 2016 میں وائٹ ہاؤس کا راستہ کون سی جماعت کے لیے ہموار ہو گا۔

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں پولنگ شروع ہو چکی ہے۔

اس وقت کانگریس کے ایوان نمائندگان میں رپبلکن پارٹی اکثریت میں ہے اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے اسے محض چھ نشستیں درکار ہیں۔

صدر اوباما کے منتخب ہونے کے بعد ان کی مقبولیت کا گراف کم ترین سطح پر ہے اور اسی وجہ سے صدر اوباما کی ڈیموکریٹک پارٹی سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق صدر اوباما کی جانب سے معیشت میں حالیہ بہتری کے باوجود ان کی مقبولیت بڑھنے کی بجائے کم ہوئی ہے۔

رپبلکن جماعت کے سال 2016 کے صدارتی امیدوار رینڈ پال نے مقامی ٹی وی چینل این بی سی کے ہفتہ وار پروگرام میٹ دی پریس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ صدر کے لیے ریفرینڈم ہے۔‘

صدر اوباما نے اتوار کو انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’سب کو باہر نکالیں، گھروں میں نہ رہیں، کسی اور کو اپنا مستقبل منتخب نہ کرنے دیں۔‘

امریکہ میں صدر کے منتخب ہونے کے بعد دو سال بعد ہونے والی وسط مدتی انتخابات میں زیادہ تر فائدہ حزب اختلاف کو پہنچتا ہے۔

اس بار ان انتحابات میں سینیٹ کی تقریباً ایک تہائی نشستوں، ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور 50 ریاستی گورنروں میں سے 36 اور کئی ریاستی اور مقامی عہدوں پر مقابلہ ہو گا۔

تاہم وسط مدتی انتخابات میں نظریں سینیٹ کی صورت حال پر ہیں کہ آیا ڈیموکریٹ اس پر کنٹرول برقرار رکھ سکیں گے کہ نہیں۔

اس وقت رپبلکن جماعت اس وقت سینیٹ میں پانچ نشستوں کے خسارے پر ہے اور اسے اکثریت حاصل کرنے کے لیے مزید چھ نشستیں درکار ہیں۔

سینیٹ میں رپبلکن کی برتری کے بعد یہ سوال بھی اہم ہو گا کہ آیا اوباما انتظامیہ میں کوئی تبدیلی آئے گی کہ نہیں کیونکہ رپبلکن کے کنٹرول میں ایوان نمائندگان کے وائٹ ہاؤس کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے اور اس میں بعض معاملات پر اختلافات کھل کر سامنے آئے۔

اسی بارے میں