’جب کوبانی آزاد ہوگا تو دو بار روئیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنگ سے پہلے یہ شہر کا پوش علاقہ تھا

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ترکی کی سرحد سے متصل شام کے کرد شہر کوبانی کا تقریباً دو ہفتوں سے محاصرہ کر رکھا ہے۔

کردستان کے حامی روزنامہ ’اوزگورگندم‘ کے لیے لکھنے والے ایرسن کاکسو ان چند صحافیوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے کوبانی کے اندر کے حالات کو رپورٹ کیا ہے۔

صحافی ایرسن کاکسو کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے حملے کے چار دن بعد وہ 19 ستمبر کو کوبانی پہنچے تھے اور ابتدائی چند نظر آنے والے بیشتر شہری اب غائب ہو چکے ہیں۔ ان میں بہت سارے ترکی جا چکے ہیں اور بدقسمتی سے کئی جھڑپوں کے دوران ہلاک ہوگئے۔

کوبانی اور اس کے اطراف میں واقع 360 دیہاتوں میں چار لاکھ افراد کی آبادی تھی۔ اب صرف شہر کے قدرے محفوظ علاقے میں چار ہزار افراد ہی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کوبانی شہر کے مشرق میں تل سیر میں پانچ ہزار شہری رہائش پذیر ہیں۔

ترکی کی سرحد کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے یہاں بارودی سرنگیں بھی نصب ہیں۔

جب دولتِ اسلامیہ نے شہر پر چڑھائی شروع کی تو شہری جتنا ممکن ہو سکتا تھا اپنا سامان اٹھا کر اس علاقے میں پناہ لینے پہنچے۔

یہاں پورے کا پورا خاندان بھی موجود ہے لیکن بہت سارے سرحد پار ترکی کے علاقے سوروچ منتقل ہو گئے ہیں اور کوبانی اور سوروچ کے درمیان رابطے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ موبائل فون ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کوبانی میں موجود عام شہریوں میں زیادہ تعداد عمر رسیدہ افراد، خواتین اور بچوں کی ہے

دونوں اطراف میں موجود لوگ ایک دوسرے کی خیریت کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں جبکہ کوبانی میں اس وقت موجود شہری دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی کا حصہ ہیں اور سوروچ میں پناہ گزینوں کی زندگی گزارنے والے ان کے پیارے بھی اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہیں۔

کوبانی کا مشرقی علاقہ مارٹر گولوں، خودکش کار حملوں، امریکہ کی قیادت میں اتحاد کی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں کھنڈر بن چکا ہے۔ جنگ سے پہلے یہ شہر کا ایک پوش علاقہ تصور کیا جاتا تھا۔

مشرقی علاقے میں ہونے والے نقصانات کے برعکس اگرچہ شہر کے جنوبی علاقوں کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا لیکن یہاں بھی تباہی نظر آتی ہے۔

یہاں گلیوں میں لڑائی کے نتیجے میں اب کسی مکان کا دروازہ سلامت نظر نہیں آتا ہے اور اب یہ مکانات دیواروں میں شگاف ڈال کر کے ایک دوسرے سے جوڑ دیے گئے ہیں تاکہ شہر کے اس حصے اور قریب کی پانچ گلیوں تک نقل و حرکت میں آسانی ہو سکے۔

شہر کی گلیوں میں گولیوں سے چھلنی تباہ گاڑیاں نظر آتی ہیں۔

لڑائی شروع ہونے کے بعد سے شہر میں صفائی کا عمل معطل ہے جس کی وجہ سے گلیوں میں مکھیوں کی بھرمار ہو چکی ہے لیکن اب موسم سرد ہونا شروع ہو گیا ہے اور ان کی تعداد میں قدرے کمی آئی ہے۔

بھوک اور پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے آوارہ کتوں اور گھروں میں پیچھے چھوڑے گئے پالتو جانوروں کی حالت خراب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بزرگ افراد کو لڑنے کی اجازت نہیں لیکن کچھ شہر کو بچانے کے جذبے میں خلاف ورزی کرتے ہیں

یہاں پیچھے رہ جانے والے شہریوں میں زیادہ تعداد عمر رسیدہ افراد، خواتین اور بچوں کی ہے۔ اگرچہ انھیں جنگ کے محاذ یا فرنٹ لائن پر جانے کی اجازت نہیں ہے تاہم ان میں بہت سے اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

67 سال خلیل عثمان نے اپنے دو بیٹوں کے ساتھ ہتھیار اٹھائے ہیں۔

انھوں نےمجھے بتایا:’ جب جوان ہلاک ہو رہے ہیں تو کیا مجھ سے توقع کرتے ہیں کہ میں مرنے سے ڈروں۔‘

صرف رات کے اوقات میں عام شہریوں کو کسی ہنگامی صورتحال میں اپنے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہے۔ اگر کوئی بیمار ہوتا ہے تو اس صورت میں مقامی انتطامیہ کو فون کیا جاتا ہے اور وہ پاپولر پروٹیکشن یونٹ یعنی ’وائے پی جی‘ کے دو کرد جنگجوؤں کے ساتھ ایک گاڑی میں آتے ہیں اور اس بیمار کو اس جگہ لے جاتے ہیں جہاں علاج ممکن ہوتا ہے۔

اگر دولتِ اسلامیہ کی جانب سے مارٹر گولوں یا اس سے ملتے جلتے حملے کا خطرہ ہوتا ہے تو مختصر مدت کے لیے ہنگامی صورتحال نفاذ کر کے کرد جنگجؤ لوگوں کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور تاکہ متبادل مکانات کو تلاش کر کے انھیں وہاں منتقل کیا جا سکے۔

کوبانی میں یکجہتی کا بے پناہ مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

دن کے وقت شہر میں سفر کرنا بہت آسان ہے کیونکہ گلی میں جو بھی پہلی گاڑی نظر آئے گی اس کا ڈرائیور گاڑی روک کر آپ کو لفٹ کی پیشکش کرے گا۔ ہو سکتا ہے کہ اس یکجہتی کی وجہ سے یہ سمجھنا ممکن ہو کہ کوبانی نے اتنے عرصے تک کیسے کامیابی سے دفاع کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہنگامی صورتحال میں کرد جنگجو عام شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرتے ہیں

اب بھی کچھ لوگ اپنے ہی مکانات میں رہائش پذیر ہیں۔ جب ضرورت ہوتی ہے تو خالی مکانات میں ضرورت مند لوگوں کو وہاں منتقل کر دیا جاتا ہے۔

جو ابھی بھی اپنے مکانات میں مقیم ہیں وہ اپنے گھروں میں موسم سرما کے لیے ذخیرہ کی گئی پنیر، اچار، جیمز اور خشک سبزیاں دوسرے ضرورت مند افراد کو پیش کرتے ہیں۔

اگرچہ لوگوں کے پاس بہت ہی کم مال و اسباب بچا ہے لیکن پھر بھی دوسروں کو دینے میں ہچکچاتے نہیں ہیں۔

مثال کے طور پر اگر گاڑی کی ضرورت ہوتی ہے تو گاڑی کا استعمال شروع کرنے سے پہلے کرد جنگجؤ گیراج کا دروازہ کھول کر گاڑی کی رجسٹریشن کا نمبر اور اس کے مالک کا اندراج کرتا ہے تاکہ گاڑی کے استعمال کا معاوضہ ادا کیا جا سکے۔

شہر میں اس وقت کوئی کاروباری سرگرمیاں نہیں ہیں اور صرف بیکری ہی واحد کاروبار ہے جو ابھی بھی جاری ہے۔

یہاں روٹی تیار کر کے مفت تقسیم کی جاتی ہے۔ اس کےعلاوہ کھانے پینے کی زیادہ تر ڈبوں میں بند خوراک ایک مخصوص دن تقسیم کی جاتی ہے اور جتنا ممکن ہو سکے اور کو برابر تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ ڈبے خوراک کےذخائر سے لیے جاتے ہیں اور کچھ انسانی ہمدری کے طور پر کوبانی پہنچائی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شہر کا قبرستان میدان جنگ بن چکا ہے اور ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین دوسری جگہوں پر کی جاتی ہے

ٹینکرز کے ذریعے پانی تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی انتظامیہ ہر تین دن کے بعد آٹا تقسیم کرتی ہے جس میں پانچ افراد کو 50 کلوگرام کا ایک تھیلا فراہم کیا جاتا ہے۔

شہر میں موجود شہری رضاکارانہ کاموں میں حصہ لیتے ہیں جس میں ہتھیاروں، گاڑیوں اور جنریٹرز کی مرمت شامل ہے۔ اس کے علاوہ زخمیوں کے علاج میں ڈاکٹروں کی مدد کرتے ہیں، محاذ جنگ پر ہتھیار اور گولیاں پہنچاتے ہیں اور جنگجوؤں کے لیے کھانا اور ان کے کپڑے تیار کرتے ہیں۔

سردیوں کی آمد پر شہر میں بیمار افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور صفائی ستھرائی بھی ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔

شہر میں اس وقت صرف پانچ ڈاکٹر موجود ہیں اور طبی وسائل کی شدید کمی کی وجہ سے یہ صرف زخموں کی مرہم پٹی ہی سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کوبانی کے تینوں ہسپتال بمباری میں تباہ ہو چکے ہیں اور ڈاکٹر دو کمروں پر مشتمل مکانات میں علاج کرتے ہیں۔

بیمار ہونے والے افراد ڈاکٹر کے پاس جانے سے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے ایک عمر رسیدہ خاتون نے بتایا کہ طبی مرکز کے پاس بہت ہی کم وسائل رہ گئے ہیں اورانھیں ہم پر ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارے بچے لڑ رہے ہیں اور زخمی ہو رہے ہیں اور یہ ان کے کام آنا چاہیے۔

شہر کا قبرستان میدان جنگ بن چکا ہے اور کوبانی میں ہلاک ہونے والے افراد کو قبرستان کے بجائے دیگر جگہوں پر دفنایا جا رہا ہے۔

خاتون نام کی ایک عورت نے ایک عزیز جوان خاتون جنگجو کو دفنانے کے بعد بات کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں اچھی طرح سے غصم و افسوس کرنے کا وقت بھی نہیں ہے۔اب ہم رو نہیں رہے ہیں جب کوبانی آزاد ہو گا تو دو بار روئیں گے۔

اسی بارے میں