برطانوی فوج دوبارہ عراق جائے گی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شام اور عراق کے بڑے قطعات پر دولت اسلامیہ کا کنٹرول ہے

عراق کو دولت اسلامیہ کے خلاف جاری جنگ میں مدد کرنے کے لیے برطانوی حکومت اپنے فوجی ماہرین کو دوبارہ عراق بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔

آئندہ چند ہفتوں میں تربیت دینے والے فوجیوں کو عراق کے دارالحکومت بغداد بھیجا جائے گا جہاں وہ تربیتی کام کا آغاز کریں گے۔

شام اور عراق کے بڑے حصوں پر دولت اسلامیہ کا تسلط ہے۔

برطانوی وزیر دفاع مائیکل فیلون نے کہا کے یہ مشن عراقی فوج کی تربیت تک ہی محدود رہے گا اور عراقی لڑاکا دستوں کی جنگ میں قیادت نہیں کرے گا۔

صدام حسین کو شکست دینے کے مشن کے آٹھ سال بعد برطانوی افواج کو عراق سے سنہ 2011 میں واپس برطانیہ بلایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سنہ 2009 میں بسرہ سے نکلنے والے برطانوی فوجی اپنے ملک واپس لوٹے

برطانوی پارلیمنٹ میں دولت اسلامیہ کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دیے جانے کے چار دن بعد برطانوی فوج کی طرف سے 30 ستمبر کو عراق میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا آغاز ہوا۔

وائٹ ہال کے ایک ترجمان نے بدھ کو روزنامہ ’دی ٹائمز‘ کو بتایا: ’اگرعراق کی حکومت ناکام ہو جاتی ہے اور ملک فرقہ واریت کا شکار ہو جاتا ہے تو بہت بڑا مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔ اگر ہم اس بارے میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں عراقی حکومت کو ناکام ہونے سے بچانا ہوگا۔‘

عراق کے نئے وزیر اعظم حیدر العبادی پر شمالی اور مغربی علاقوں میں اپنی عملداری بحال کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

امریکہ نے تقریباً 500 فوجی عراق اور قریبی علاقوں میں بھیجنے کے لیے اتفاق کیا ہے تاکہ وہ عراقی فوج کو عسکری تربیت دے سکیں۔

بی بی سی کے ساتھ بغداد میں بات کرتے ہوئے برطانوی وزیر دفاع نے کہا کہ عراقی فوج کسی حد تک دولت اسلامیہ کی پیش قدمی کو روکنے میں کامیاب ہوئی ہے لیکن اسے فوری طور پر برطانیہ سے مزید مدد کی ضرورت ہے۔

برطانیہ کی طرف سے فوجی امداد رابطہ کاروں اور ماہرین کی صورت میں فراہم کی جائے گی جو عراقی فوجیوں کو سڑک کے کنارے نصب بموں کو ناکارہ بنانے کے طریقے سکھائیں گے۔

برطانوی لیبر پارٹی کے نمائندہ اینڈی برنم نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ: ’یہ ایک مشاورتی کردار ہے اور اس مرحلے پر یہ ہی مناسب ہے۔‘