صدر اوباما اور رپبلکن رہنما کا مل کر کام کرنے کا عہد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صدر اوباما نے کہا کہ جن ووٹروں نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا میں ’آپ کو سن رہا ہوں۔‘

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے بعد سینیٹ کے نئے ریپبلکن رہنما اور صدر براک اوباما، دونوں نے اس سیاسی تعطل کو ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کی وجہ سے امریکی ووٹروں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ میں منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو تاریخی کامیابیاں حاصل ہوئی اور اب ان کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرل ہے۔

سینیٹ کے نو منتخب رہنما میچ میک کونل نے کہا کہ وہ غیر موثر سینیت کو فعال بنائیں گے اور بل پاس کرائیں گے۔

صدر براک اوباما نے بھی کہا ہے کہ وہ ’ آئندہ دو سالوں کو زیادہ سے زیادہ کار آمد بنانے کے لیے نئے کانگریس کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

امریکی ووٹروں نے کانگریس کا ساتھ کام نہ کرنے پر مایوسی ظاہر کی تھی۔

صدر اوباما نے کہا کہ جن ووٹروں نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا میں ’آپ کو سن رہا ہوں۔‘

انھوں نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دونوں جماعتوں ڈیموکریٹ اور ریپبلکن کو عوامی خدشات کو دور کرنا چاہیے لیکن انھوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ’صدر کی حیثیت سے یہ ان کی مخصوص ذمہ داری ہے کہ کام نکلوانے کی کوشش کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ریپبلکن رہنما میک کونل نے کہا کہ وہ سینیٹ کو زیادہ کارآمد بنائیں گے

صدر براک اوباما جعمے کو وائٹ ہاؤس میں ڈیموکریٹ اور ریپبلکن پارٹی کے رہنماوؤں کی اجلاس کی میزبانی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یقینی طور پر اکٹھے کام کرنے کے لیے راستے ڈھونڈ سکتے ہیں۔یہ ہمارے کام کرنے کا وقت ہے۔‘

لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ وہ لوگوں کو ملک بدر کرنے کے واقعات کو کم کرنے اور بارڈر سکیورٹی کو بڑھانے کے لیے خود سے اقدامات کریں گے۔ انھوں نے اس کے لیے اقدامات اٹھانے میں انتخابات ہونے تک تاخیر کی تھی جس پر لاطینی ووٹر نالاں تھے۔

بدھ کو اس سے پہلے ریپبلکن رہنما میک کونل نے کہا کہ وہ سینیٹ کو زیادہ کارآمد بنائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’سینیٹ نے بنیادی طور پر گذشتہ کئی سالوں میں کچھ نہیں کیا۔ہم دوبارہ کام شروع کرنے جا رہے ہیں اور درحقیقت قانون سازی کریں گے۔‘

انھوں نے ان مسائل پر صدر براک اوباما کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم بھی کیا جن پر وہ آپس میں متفق ہو سکتے ہیں، مثال کے طور پر تجارتی معاہدے اور ٹیکس اصلاحات۔

خیال رہے کہ ریپبلکن پارٹی نے چھ سیٹیں جیت کر سینیٹ پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

رپبلکن پارٹی نے آرکنسا، کولاریڈو، آئیووا، مونٹینا، نارتھ کیرولائنا، ساؤتھ ڈکوٹا اور ویسٹ ورجینیا میں جیت حاصل کی ہے۔

رپبلکن جماعت کو ایوان نمائندگان میں پہلے ہی سے اکثریت حاصل ہے۔ ان وسط مدتی انتخابات میں جماعت نے ایوان نمائندگان میں بھی اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔

سینیٹ میں رپبلکن کی برتری کے بعد یہ سوال بھی اہم ہو گا کہ آیا اوباما انتظامیہ میں کوئی تبدیلی آئے گی کہ نہیں کیونکہ رپبلکن کے کنٹرول میں ایوان نمائندگان کے وائٹ ہاؤس کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے اور اس میں بعض معاملات پر اختلافات کھل کر سامنے آئے۔

اسی بارے میں