شام میں کون جیت رہا ہے؟

النصرہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption داعش کے جنگجو شام میں النصرہ کی مدد کر رہے ہیں

اس بات کو چھ ہفتے ہو گئے ہیں جب امریکہ کی سربراہی والے اتحاد نے دولتِ اسلامیہ اور شام میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف فضائی حملے شروع کیے تھے، لیکن موجودہ حالات سے پتہ چلتا ہے کہ اس فضائی مشن کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔

بی بی سی کو فون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں ایک اعتدال پسند کمانڈر نے کہا کہ ’ہم دنیا اور اپنے امریکی دوستوں کی نظروں کے سامنے ختم ہو رہے ہیں۔‘

ان کے گروپ کو شام میں القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ نے شکست دی ہے۔ النصرہ نے گذشتہ ہفتے صوبہ ادلب میں سیریئن ریولوشنری فرنٹ (ایس آر ایف) اور حزم تحریک کو شکست دی تھی۔ ان دونوں اعتدال پسند گروہوں کو امریکی حمایت حاصل ہے۔

یو ٹیوب پر اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیو میں ایس آر ایف کے رہنما جمال معروف کہتے ہیں کہ انھوں نے دير سونبول قصبے میں اپنے جنگجوؤں کو پسپائی کا حکم دیا تھا تاکہ مزید جانیں نہ ضائع ہوں۔

لیکن سوشل میڈیا پر النصرہ کے اکاؤنٹس کے مطابق جمال معروف کے گروہ کے درجنوں جنگجو پکڑے جا چکے ہیں اور کئی دیگر نے اپنا گروہ چھوڑ کر النصرہ گروپ میں شمولیت اختیار کر لی ہے جس نے ادلب میں جبال الزاویہ کے علاقوں کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے۔

شام میں کم از کم دو ذرائع نے سوشل میڈیا پر آنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ جمال معروف کو بھی النصرہ نے گرفتار کر لیا تھا۔

23 ستمبر کو النصرہ فرنٹ کے اڈوں کو امریکی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اس کے بعد ایسی کوئی اطلاعات نہیں کہ مزید حملے کیے گئے ہوں۔

نصرہ فرنٹ نے چھوٹے جہادی گروہوں کے ساتھ مل کر ادلب شہر کے جنوب، مغرب اور مشرق میں کئی شہروں اور دیہات پر قبضہ کر لیا ہے لیکن ادلب ابھی میں حکومت کے قبضے میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption النصرہ کے جنگوؤں نے شام میں دو بڑے اعتدال پسند باغی گروہوں کو شکست دی ہے

شام میں ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ النصرہ نے اس ہفتے کے آغاز میں حزم تحریک کو شکست دی تھی اور امریکیوں کی طرف سے دیے گئے اسلحے کے ایک بڑے ذخیرے پر قبضہ کر لیا تھا جس میں جدید بکتر شکن میزائل سسٹم بھی شامل ہے۔

حال ہی میں حزم گروہ نے النصرہ کے خلاف جمال معروف کی مدد کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پھر دوسرے مسلح گروہوں کے مشورے پر ایسا نہیں کیا۔ تاہم النصرہ نے اسے معاف نہیں کیا۔

ایک منحرف شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انجام بہت برا تھا۔‘

حزم کے رہنما عبداللہ اودا اور ان کے سینکڑوں ساتھیوں کو خان آف السوبول کے گاؤں کے قریب ایک جنگل میں گھیر لیا گیا اور جب انھیں معلوم ہوا کہ چاروں طرف النصرہ فرنٹ کے جنگجو موجود ہیں تو وہاں افراتفری پھیل گئی۔

’اودا نے بڑی کوشش کی کہ وہ باغیوں کو سمجھا سکیں کہ وہ اپنے اڈے کا دفاع کریں لیکن سینکڑوں منحرف ہو گئے اور دیگر وہاں سے فرار ہو گئے۔ شام کے وقت وہ صرف 50 جنگوؤں کے ہمراہ وہاں سے نکل کر حلب کی طرف روانہ ہوئے۔‘

اس کے کچھ گھنٹوں کے بعد انھوں نے اپنے معاون ابو عبداللہ کو النصرہ سے مذاکرات کے لیے بھیجا لیکن انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ اگلے ہی دن ان کو شرعی عدالت میں پیش کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک اندازے کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے پاس 30 ہزار کے قریب جنگجو موجود ہیں

اس علاقے میں کئی ماہ سے النصرہ اور دیگر جہادی گروہوں اور اعتدال پسند مسلح گروہوں کے درمیان تناؤ چل رہا تھا۔

حزم کے ایک رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ النصرہ نے ہمیں نشانہ بنانے کا فیصلہ 23 ستمبر کو ادلب میں ان کے اڈوں پر پہلے مغربی فضائی حملے کے بعد کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’النصرہ نے ہم پر الزام لگایا کہ ہم نے ان کے اڈوں اور حرکات و سکنات کی اطلاع مغرب کو دی تھی۔‘

اگرچہ حزم تحریک کے تعلقات امریکہ سے کافی اچھے ہیں لیکن پھر بھی اس نے اسی دن النصرہ پر حملے کی مذمت کی تھی۔

اس بیان سے حزم تحریک کے امریکہ سے بھی تعلقات تناؤ میں آ گئے۔ ایک سینیئر حزم رہنما کے مطابق: ’ہم النصرہ کو یہ سمجھانے میں ناکام رہے کہ ہم امریکہ کے لیے جاسوسی نہیں کر رہے اور امریکہ نے بھی ہماری مدد کرنے سے انکار کر دیا۔‘

وہ اب بھی اپنے آپ کو یہ بات سمجھانے سے قاصر ہیں کہ امریکہ نے زمین پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشورے اور تعاون کے بغیر کس طرح حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے ایس آر ایف اور حزم کے خلاف حملوں میں بھی النصرہ کی مدد کی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے ایس آر ایف اور حزم تحریک کی شکست کے بعد اتحادیوں کے لیے یہ بہت مشکل ہو جائے گا کہ وہ النصرہ اور دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کے اگلے مرحلے میں کوئی اعتدال پسند گروہ ڈھونڈ سکے۔

اسی بارے میں