وسط مدتی انتخابات میں رپبلکنز کا سینیٹ پر بھی کنٹرول

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وسط مدتی انتخابات میں رپبلکنز نے ایوان نمائندگان میں بھی اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے

امریکہ میں منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں رپبلکن پارٹی نے چھ سیٹیں جیت کر سینیٹ پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

رپبلکن پارٹی نے آرکنسا، کولاریڈو، آئیووا، مونٹینا، نارتھ کیرولائنا، ساؤتھ ڈکوٹا اور ویسٹ ورجینیا میں جیت حاصل کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق رپبلکن کے سینیٹ رہنما مچ میک کونل ایوان کی سربراہی کریں گے۔

رپبلکن جماعت کو ایوان نمائندگان میں پہلے ہی سے اکثریت حاصل ہے۔ ان وسط مدتی انتخابات میں جماعت نے ایوان نمائندگان میں بھی اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔

خبر رساں ادارے اے اپی کے مطابق رپبلکن پارٹی کے سینیٹر اور اقلیتی رہنما میک کونل نے کینٹکی سے اپنی سیٹ دوبارہ جیت لی ہے۔ اے پی کے مطابق رپبلکن پارٹی نے جنوبی کیرولائنا سے بھی سینیٹ کی دو سیٹیں جیتی ہیں۔

امریکہ میں منگل کو انتحابات میں سینیٹ کی تقریباً ایک تہائی نشستوں، ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور 50 ریاستی گورنروں میں سے 36 اور کئی ریاستی اور مقامی عہدوں پر مقابلہ ہوا۔

صدر اوباما کے منتخب ہونے کے بعد ان کی مقبولیت کا گراف کم ترین سطح پر ہے جس کا نقصان ان کی جماعت ان انتخابات میں اٹھانا پڑا ہے۔ امریکہ میں عام طور پر صدر کے منتخب ہونے کے بعد دو سال بعد ہونے والی وسط مدتی انتخابات میں زیادہ تر فائدہ حزب اختلاف کو پہنچتا ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق صدر اوباما کی جانب سے معیشت میں حالیہ بہتری کے باوجود ان کی مقبولیت بڑھنے کی بجائے کم ہوئی ہے۔

رپبلکن جماعت کے سال 2016 کے صدارتی امیدوار رینڈ پال نے مقامی ٹی وی چینل این بی سی کے ہفتہ وار پروگرام میٹ دی پریس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ صدر کے لیے ریفرینڈم ہے۔‘

سینیٹ میں رپبلکن کی برتری کے بعد یہ سوال بھی اہم ہو گا کہ آیا اوباما انتظامیہ میں کوئی تبدیلی آئے گی کہ نہیں کیونکہ رپبلکن کے کنٹرول میں ایوان نمائندگان کے وائٹ ہاؤس کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے اور اس میں بعض معاملات پر اختلافات کھل کر سامنے آئے۔

اسی بارے میں