اسرائیل کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2010 میں اس کشتی نے امدادی سامان نے کر غزہ کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کی تھی اور اس دوران نو ترک امدادی کارکن مارے گئے تھے

جنگی جرائم کی عالمی عدالت کی مرکزی وکیلِ استغاثہ نے کہا ہے کہ وہ سنہ 2010 میں غزہ کے لیے جانے والے امدادی بحری جہاز پر اسرائیلی کمانڈوز کے ہلاکت خیز چھاپے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔

فٹاؤ بینسوڈا کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایک کشتی پر جنگی جرائم کے ارتکاب کا یقین دلانے والے ثبوتوں کے باوجود کیا گیا ہے۔

اسرائیلی حملہ، دس سے زیادہ ہلاک، تیس زخمی

لیکن ان کا کہنا تھا کہ جنگی جرائم کی عالمی عدالت نے جنگی جرائم کی بڑی پیمانے پر ترجیحات مرتب کی ہیں۔

سنہ 2010 میں اس کشتی نے امدادی سامان لے کر غزہ کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کی تھی اور اس دوران نو ترک امدادی کارکن مارے گئے تھے۔

امدادی سامان لے جانے والے قافلے میں کل چھ بڑی کشیتاں تھیں۔ ان میں سے سب سے بڑی کشتی ماوی مارمرا پر اسرائیلی کمانڈوز ہیلی کاپٹر سے رسیوں کے مدد سے اترے۔ جلد ہی جھڑپ شروع ہو گئی اور اسرائیلی کمانڈوز نے گولی چلا دی۔

فٹاؤ بینسوڈا کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے سے متاثرین کے خاندان پر جرم کے اثرات کو کم کرنا نہیں چاہتیں لیکن انھیں معاہدۂ روم کی رہنمائی چاہیے۔ یہ معاہدہ جنگی جرائم کی عالمی عدالت کا بنیادی معاہدہ ہے۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ اس واقعے کی تحقیقات سے سامنے آنے والے نتائج اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ ان پر جنگی جرائم کی عالمی عدالت مزید اقدامات کرے۔‘

اسی بارے میں