تیل کی گرتی قیمتیں، امریکی کمپنیاں خوش

Image caption کپمنی کا دویٰ ہے کہ اس قسم کا شیل آیل کا کنواں 600 بیرل روزانہ مہیا کر سکتا ہے

امریکی ریاست اوکلاہوما کے علاقے کارٹر کاؤنٹی میں جدھر دیکھیں تیل نکالا جا رہا ہے۔

سطح زمین کو دیکھیں تو یہ علاقہ زیادہ تر خالی ہی دکھائی دیتا ہے۔ ادھر ادھر چرتے ہوئے کچھ سست مویشیوں اور مٹی کی ڈھیریوں کے علاوہ یہاں کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔

لیکن سطح زمین سے نیچے کا منظر کسی مصروف ہائی وے سے مختلف نہیں جہاں تیل اور گیس کی درجنوں کمپنیاں دھڑا دھڑ (گہرے نہیں بلکہ) طویل کنویں کھود رہی ہیں۔

ایک کمپنی کے مالک جان گِبز کے بقول ’ہر کوئی جتنی تیز بھاگ سکتا ہے، بھاگ رہا ہے اور ہر ایک کی کوشش ہے کہ تیل کی قیمتیں کم ہونے سے پہلے زیادہ سے زیادہ پیسے بنا لے۔‘

کارٹر کاؤنٹی میں تیل اور گیس کی فراوانی سے حاصل ہونے والی نئی دولت کے اثرات قریبی شہر آرڈمور میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اوکلاہوما کی دیگر آبادی سے دور دراز اس شہر میں ہوٹلوں کے کرائیوں سمیت ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے اور مقامی لوگ خاصے خوشحال ہو گئے ہیں۔

مسٹر گِبز کا کہنا تھا کہ انھیں وہ دن یاد ہیں جب آرڈمور کی سڑکوں پر ٹریفک کا جام ہو جانا ایک مذاق سے زیادہ نہیں تھا۔ ’اب شہر میں صبح اور شام اچھی خاصی ٹریفک ہوتی ہے اور یہاں ہوٹلوں میں آپ کو خالی کمرہ نہیں ملتا۔‘

تیل کی نہ ختم ہونے والی عالمی بھوک

’فریکنگ‘ یا سرنگ جیسے کنوؤں سے تیل نکالنے کی ٹیکنالوجی میں ترقی کی بدولت شمالی ڈکوٹا سے لے کر ٹیکساس تک، پورے امریکہ میں تیل کی اتنی فراوانی ہو چکی ہے جتنی گذشتہ 31 برسوں میں نہیں ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آرڈمور شہر کا وجود سنہ 1920 میں یہاں پر تیل کی دریافت کا مرہون منت ہے

ریاست اوکلاہوما کے وُڈفورڈ - کانا کے شیل میں پوشیدہ تیل کے ذخائر کی دریافت پر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ریاست 20 ویں صدی کے اوائل کے برسوں کی طرح ایک مرتبہ پھر امریکہ کی تیل پیدا کرنے والے سب سے بڑی ریاست بن سکتی ہے۔

لیکن اوکلاہوما سے تیل کی اتنی زیادہ پیداوار کی وجہ صرف تیل کی موجودہ قیمتیں ہیں جن میں موسم گرما سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

شیل سے حاصل کیے جانے والے تیل کی قیمت کے لیے ضروری ہے کہ اس تیل کی فی بیرل قیمت قدرتی تیل کی قیمت سے زیادہ نہ ہو۔

یہ ایک ایسا ہدف ہے جو ہر ہفتے تبدیل ہوتا رہتا ہے، کیونکہ کسی ایک مقام پر تیل کا نیا کنواں کھودنے کی قیمت دوسری جگہ سے لامحالہ مختلف ہوتی ہے۔

لیکن مسٹر گِبز کہتے ہیں کہ بات صرف اپنے اخراجات پوری کرنے کی نہیں، بلکہ شیل سے تیل حاصل کرنے والی کپمنیاں منافع کمانا چاہتی ہیں۔

Image caption ڈینئل رومو فی الحال تو خوش ہیں لیکن مستقبل کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں

’پانچ سال پہلے نئے کنویں کھودنے کے لیے کمپنیوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ تیل کم از کم 90 ڈالر فی بیرل یا اس سے زیادہ قیمت پر فروخت کریں، لیکن اس شعبے میں نئی ٹیکنالوجی کے آنے کے بعد اب کمپنیاں 60 سے 65 ڈالر فی بیرل تک بھی تیل فروخت کر سکتی ہیں۔‘

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پہلے فریکنگ کے لیے ایک نیا کنواں کھودنے میں دو ہفتے لگتے تھے، لیکن اب یہ کام آپ پانچ دنوں میں کر سکتے ہیں۔

مسٹر گِبز کے خیال میں ہوگا یہ کہ اب کمپنیاں ہر دوسرے روز نیا کنواں نہیں کھودیں گی بلکہ اس میں وقفہ بڑھا دیں گی۔

’زیادہ تر کمپنیاں نئے کنویں کھودنے کے منصوبے اس امید پر مؤخر کر دیں گی کہ آنے والے دنوں میں نئی ٹیکنالوجی آ جائے گی جس سے تیل نکالنا مزید کم خرچ ہو جائے گا۔‘

کل کا کیا ہوگا؟

لیکن جدید اور کم قیمت ٹیکنالوجی کی نوید کے باوجود توانائی کے شعبے میں فکر مندی کے دن ختم نہیں ہوئے۔

آرڈمور کے ایک مصروف ہوٹل کے مالک ڈینئل رومو کہتے ہیں کہ ابھی دن اچھے دن گزر رہے ہیں لیکن مستقبل کا کیا ہوگا۔ ’اگر تیل کی قیمتیں یوں ہی مسلسل گرتی رہیں تو ہمیں تکلیف ہونا شروع ہو جائے گی کیونکہ پھر اس علاقے میں کام کرنے والی تیل کمپنیوں کے لیے یہاں سے تیل نکالنا منافع بخش کاروبار نہیں رہے گا۔‘

امید کی کرن

تاہم ابھی تک تو شیل سے تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کا یہی کہنا ہے کہ ان کا پیداوار کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

Image caption یہاں آپ کو کچھ سست مویشیوں اور مٹی کی ڈھیریوں کے علاوہ کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔

ڈینئل رومو کے ہوٹل کے سامنے سے گزرنے والی سڑک پر چلتے جائیں تو آپ کو ’بی این کے پیٹرولیم‘ نامی کمپنی کا ایک منصوبہ دکھائی دیتا ہے جہاں نوکیلے درختوں کے نیچے یہ کمپنی علاقے میں اپنا 11واں کنواں کھود رہی ہے۔

کمپنی کے نائب صدر رے پین نے مجھے بتایا کہ اس قسم کا ایک کنواں کھودنے کی لاگت 80 لاکھ ڈالر ہے اور یہاں سے 30 لاکھ بیرل تیل نکلنے کی امید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ تیل کی گرتی قیمتیں فکرمندی کی بات ہے، لیکن ان کی کپمنی کے لیے یہ قیمت اب بھی اتنی ہے کہ وہ اس بیش قیمت کنویں سے بھی منافع کما لیں گے۔

’اگر قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل سے بہت نیچے بھی آ جاتی ہیں، ہم تب بھی نئے کنوؤں کے منصوبوں پر اسی رفتار پر عمل کرتے رہیں گے۔‘

اسی بارے میں