’کار حملے کرنے والوں کے گھر مسمار کرنے کا حکم‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یروشلم میں گذشتہ تین ہفتوں کے دوران دو مختلف واقعات میں اب تک چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں

اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے بیت المقدس (یروشلم) میں فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنے کا حکم دیا جنھوں نے اسرائیلیوں پر حملے کیے تھے۔

اس بات کا فیصلہ جمعرات کو شہر میں چار ہفتوں سے جاری بدامنی کے بعد کیا گیا۔

یروشلم میں گذشتہ تین ہفتوں کے دوران دو مختلف واقعات میں اب تک چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تشدد کا تازہ واقعہ بدھ کو اس وقت پیش آیا جب ایک فلسطینی ڈرائیور نے اپنی گاڑی ٹرام سٹیشن سے ٹکرا دی۔

اس واقعے میں ایک شخص موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا شخص جمعے کی صبح زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔

فلسطین کی تنظیم حماس کا کہنا ہے اس نے یہ حملے کیے جبکہ اسرئیل نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ کارروائی حماس اور فتح کی ہے۔

دوسری جانب غزہ میں متعدد چھوٹے دھماکوں میں فتح حکام کے گھروں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اگرچہ ان حملوں میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے تاہم فلسطین کے وزیرِ اعظم رامی حمداللہ نے غزہ کا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کے ترجمان نے کہا ہے کہ انھوں نے جمعرات کو سکیورٹی حکام سے ملاقات میں یروشلم میں امن قائم کرنے کے لیے ایک اجلاس میں شرکت کی۔

ترجمان کے مطابق اجلاس میں دہشت گردوں کے گھروں کو مسمار یا سیل کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسرائیل کے سفاردی یہودوں کے سربراہ رابی یوسف نے اسرائیلیوں سے استدعا کی ہے کہ وہ تشدد میں کمی لانے کے لیے یروشلم کی مقدس جگہ حرم الشریف کمپلیکس میں داخل نہ ہوں۔

ادھر جمعے کی صبح مشرقی یروشلم میں مزید جھڑپیں ہوئیں۔

جمعے کو ایک 17 سالہ شلوم نامی طالب علم کی ہلاکت کا اعلان کیا گیا جو بدھ کو ہونے والے ویگن دھماکے میں زخمی ہوا تھا۔

یروشلم میں موسم گرما میں غزہ کے بحران کے بعد سے صورت حال کشیدہ ہے اور مشرقی یروشلم کے اضلاع میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور فلسطینوں کے درمیان متعدد بار جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

گذشتہ جمعرات کو اسرائیلی پولیس نے شہر میں کشیدگی کے بعد حرم الشریف کو ایک دن کے لیے بند کر دیا تھا۔

اس سے ایک دن پہلے اسرائیلی پولیس نے ایک ایسے فلسطینی شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بارے میں شبہ تھا کہ اس نے دائیں بازو کے ایک سرگرم یہودی کارکن ربی یہودا گلک کو گولی ماری تھی۔

اسی بارے میں