میکسیکو میں گینگ کا لاپتہ 40 طلبا کو ہلاک کرنے کا اعتراف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گینگ کا کہنا تھا کہ یہ طلبا پولیس نے ان کے حوالے کیے تھے

میکسیکو کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ایک مشتبہ گینگ کے اراکین نے گذشتہ چھ ہفتے سے لاپتہ 40 سے زیادہ طلبا کو ہلاک کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

اٹارنی جنرل جیسس میوریلو نے کہا کہ گینگ کے تین مبینہ اراکین نے دعویٰ کیا کہ بعض طلبا دم گھٹنے سے پہلی ہی سے ہلاک ہوئے تھے جبکہ دیگر کو انھوں نے گولی مار کر ہلاک کیا اور تمام لاشوں کو آگ لگا دی۔

گینگ کا کہنا تھا کہ یہ طلبا پولیس نے ان کے حوالے کیے تھے۔

یاد رہے کہ 26 ستمبر کو اگیوالا قصبے میں پولیس سے تصادم کے بعد 43 طلبا لاپتہ ہو گئے تھے ۔

گیرراس گینگ سے تعلق رکھنے والے ان مشتبہ افراد کو لاپتہ ہونے والے طلبا کے کیس کے معاملے میں حال ہی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

لاپتہ ہونے والے طلبا کے لواحقین کا کہنا ہے کہ انھیں ایک دریا کے کنارے سے چھ بوریوں میں انسانی لاشیں ملنے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ بوری بند لاشیں اس علاقے سے ملیں ہیں جہاں پر طلبا لاپتہ ہوئے تھے۔

طلبا کو ڈھونڈنے کے لیے اس سے پہلے کیے گئے سرچ آپریشن میں طلبا کے لاپتہ ہونے والے قصبے اگیوالا کے نواح میں ایک اجتماعی قبر ملی تھی لیکن وہاں سے ملنے والی لاشوں کی ابتدائی ٹیسٹ رپورٹ سے معلوم ہوا کہ ان میں لاپتہ طلبا کی لاشیں نہیں تھیں۔

اٹارنی جنرل جیسس میوریلو نے خبردار کیا ہے کہ لاشوں کی جلی ہوئی باقیات کی شناخت کرنا مشکل ہے اور حکام اس وقت تک ان طلبا کو لاپتہ تصور کریں گے جب تک ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ان لاشوں کی شناخت نہیں ہو جاتی۔

انھوں نے کہا کہ ان لاشوں کو پیٹرول، ٹائر اور آگ والی لکھڑیوں کے ساتھ 14 گھنٹوں تک جلایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مشتبہ افراد پھر ان لاشوں کے باقیات کو کچل کر بوریوں میں ڈالا اور دریا میں پھینک دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اٹارنی جنرل کے مطابق مشتبہ افراد کو اندازہ نہیں کہ انھوں نے کتنے طلبا کو پکڑا تھا لیکن ان میں سے ایک نے بتایا کہ ان طلبا کی تعداد 40 سے زیادہ تھی

اٹارنی جنرل کے مطابق مشتبہ افراد کو اندازہ نہیں کہ انھوں نے کتنے طلبا کو پکڑا تھا لیکن ان میں سے ایک نے بتایا کہ ان طلبا کی تعداد 40 سے زیادہ تھی۔

لاپتہ طلبا زیرِ تربیت اساتذہ تھے جو غیر منصفانہ بھرتیوں کے خلاف احتجاج کرنے اور اپنے کالج کے لیے چندہ کرنے کے لیے اگیوالا گئے تھے لیکن پولیس کے ساتھ تصادم کے بعد غائب ہو گئے۔

لاپتہ طلبا کے معاملے کے سلسلے میں اگیوالا قصبے کے میئر جوز لیوس ابارکا اور ان کی اہلیہ ماریہ ڈی لاس انجلیس سمیت 70 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اگیوالا قصبے کے میئر اور ان کی اہلیہ ماریہ کو منگل کو میکسیکو شہر میں حراست میں لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں