دس چیزیں جن سے ہم لاعلم تھے

1۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں واقع سڈنی اوپرا ہاؤس کی دیکھ بھال کے لیے اس کے کچھ حصوں پر زیتون کا تیل اور بیکنگ پاؤڈر لگایا جاتا ہے۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

2۔ جنوبی کوریا کے ڈرامے کیوبا میں بہت مشہور ہیں۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

3۔ چمگادڑیں کھانے کی دوڑ میں حریفوں کی حس کو آواز کے سگنلز میں خلل ڈال کر جام کرتی ہیں۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

4۔ عرب ممالک مشترکہ طور پر جتنی کتابیں شائع کرتے ہیں ایران اس سے تین گنا زیادہ کتابیں شائع کرتا ہے۔

مزید جاننے کے لیے (اکونومسٹ)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

5۔دولتِ اسلامیہ کے مبینہ خواتین ونگ نے جہادیوں کی بیویوں کے لیے کھانے کی ترکیبیں انٹرنیٹ پر ڈالی ہیں۔ ان تراکیب کے مطابق جنگوں کے دوران باجرے کے دانے کوفی میں اچھے لگتے ہیں۔

مزید جاننے کے لیے (ٹائمز)

6۔ بل بورڈ چارٹس پر نمبر دو سے 107 نمبر پر موجود گلوکاروں نے مشترکہ طور پر اتنی البمز فروخت نہیں کیں جتنی کہ ٹیلر سوئفٹ نے سات روز میں فروخت کی ہیں۔

مزید جاننے کے لیے (نیو یارک ٹائمز)

7۔ ادھیڑ عمر میں خوشی بہت کم ہو جاتی ہے بشرطیکہ آپ مغربی ممالک کے باسی ہوں اور بہت امیر ہوں۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

8۔ مادہ ٹلاپیا مچھلی نر مچھلی کے پیشاپ کو سونگھ کر بتا سکتی ہے کہ نر مچھلی کتنی پراثر ہے۔

مزید جاننے کے لیے (نیشنل جیو گرافک)

9۔ فرانس میں عام طور پر چینی قندیل کو غلطی سے یو ایف او یا اڑن طشتری سمجھا جاتا ہے۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

10۔کالم نگار لوسی کیلاوے اپنے کالم کا مسودہ ’کومک سینس‘ فونٹ میں پرنٹ کرتی ہیں تاکہ املا کی غلطیوں کی نشاندہی ہو سکے۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

اسی بارے میں