کیا امریکہ کی خارجہ پالیسی مزید جارحانہ ہو گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption متعدد رپبلکنز کا کہنا ہے کہ صدر اوباما بہت زیادہ محتاط ہیں اور انھوں نے بہت زیادہ انتظار کر لیا ہے

صدر باراک اوباما نے دنیا میں امریکہ کے ادا کیے جانے والے کردار کو نئی تعریف دینے کی کوشش کی۔

تاہم گذشتہ منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی نے سینیٹ پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا جس کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ میں تبدیلیوں کا امکان ہے۔

صدر اوباما نے ’سکیلڈ بیک‘ خارجہ پالیسی اپنائی جس کے تحت بین الاقوامی اتحادوں پر زور دیا گیا۔

صدر اوبامانے محتاط رویہ اپنائے رکھا اور امریکہ کے باہر امریکی فوج کی موجودگی کم رکھنے کی کوشش کی۔

امریکی مصنف کولن ڈیوک نے صدر اوباما کے بارے میں آنے والی کتاب ’دی اوباما ڈاکٹرائن: امریکن گرینڈ سٹریٹیجی ٹوڈے‘ میں کہا ہے کہ ان کی بنیادی پالیسی’ جگہ فراہم کرنا تھا‘ تاہم وسط مدتی انتخابات والے دن رائے دہندگان کا خیال تھا کہ کچھ چیزیں کنٹرول سے باہر ہو رہی ہیں۔

این بی سی اور وال سٹریٹ جنرل کی جانب سے کرائے جانے والے سروے کے مطابق ایک تہائی سے بھی کم امریکیوں نے صدر اوباما کی خارجہ پالیسی کو سراہا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد باراک اوباما کو خارجہ پالیسی پر ملنے والی یہ سب سے کم حمایت ہے۔

ری پبلکنز نے وسط مدتی انتخابات کی مہم کے دوران اوباما کی عالمی امور پر غیر مقبول ہوتی سوچ سے خوب فائدہ اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ اوباما کے دنیا کو دیکھنے کےانداز کو پسند نہیں کرتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رپبلکن پارٹی نے وسط مدتی انتخابات میں چھ سیٹیں جیت کر کانگریس پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس کے بعد اب باراک اوباما کی خارجہ پالیسی کو مشکل کا سامنا ہے

ری پبلکن پارٹی نے وسط مدتی انتخابات میں چھ سیٹیں جیت کر کانگریس پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس کے بعد اب باراک اوباما کی خارجہ پالیسی کو مشکل کا سامنا ہے۔

مثال کے طور پر باراک اوباما نے متعدد بار کہا ہے کہ وہ گوانتانومو جیل کو بند کرنا چاہتے ہیں تاہم کانگرس کے ارکان نے ان کوششوں کی مخالفت کی اور اس کو کانگریس کی منظوری نہ مل سکی۔

نیو ہیمشائر سے رپبلکن سینیٹر کائلے نے حالیہ دنوں میں وائٹ ہاؤس کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے کہا کہ حراست میں لیے جانے والوں کو قید میں ہی رکھا جانا چاہیے اور انھیں کسی دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جانا چاہیے۔

وسط مدتی انتخابات کے بعد یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ری پبلکنز حراست میں لیے جانے والے افراد کو گوانتانومو میں رکھے جانے کی حمایت میں سخت موقف اپنائے گی۔

صدر باراک اوباما ایران کے جوہری پروگرام کے مذاکرات کاروں کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔

انھیں امید تھی کہ وہ ایران کو اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضا مند کر لیں گے تاہم انھیں کامیابی نہیں ملی۔

اوباما نے روس پر معاشی پابندیاں عائد کیں تاہم انھوں نے کرملن کے ساتھ براہِ راست کشیدگی سے گریز کیا اور اس حوالے سے متعدد رپبلکنز نے شور شرابا کیا۔

قدامت پسند سینیٹرز جیسے کہ پیٹ رابرٹس اور میک کونل جو امریکی سینیٹ میں اکثریت رہنما بنیں گے کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے عراق، یوکرین اور شام کے معاملات پر نمایاں کردار ادا نہیں کیا۔

پیٹ رابرٹس اور میک کونل شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور دیگر معاملات پر تفتیش شروع کروا سکتے ہیں۔

دونوں سینیٹرز اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے صدر اوباما کی خارجہ پالیسی کے خلاف کمیٹیوں کو سخت پیغامات بھیجیں گے۔

کیٹو انسٹیٹوٹ کے کرسٹو فر کا کہنا ہے کہ پیٹ رابرٹس اور میک کونل اوباما انتظامیہ کو یہ کہہ کر پریشان کر سکتے ہیں کہ وہ دولتِ اسلامیہ اور دیگر معاملات پر کانگریس کے سامنے پیش ہوں۔

ایزی زونا سے تعلق رکھنے والے جان مکین صدر اوباما کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی امور پر سخت موقف اپنائیں۔

مثال کے طور پر وہ اوباما کو شام میں امریکی افواج کو بھیجنے اور روس کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

رپبلکنز ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات پر بھی سخت سوالات اٹھا سکتے ہیں۔

دریں اثنا صدر اوباما اپنی خارجہ پالیسی کے لیے نئے مشروں کو شامل کریں گے۔

صدر اوباما نے سنہ 2011 میں لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کی افواج کے خلاف فضائی حملوں کی اجازت دی تاہم ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ لیبیا میں امریکی کردار محدود رہے گا۔

امریکہ اگرچہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے تاہم صدر اوباما شام میں فضائی حملے کرنے کے بارے میں بھی تذبذب کا شکار رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وسط مدتی انتخابات کے بعد یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ رپبلکن پارٹی حراست میں لیے جانے والے افراد کو گوانتانومو میں رکھے جانے کی حمایت میں سخت موقف اپنائے گی

متعدد رپبلکنز کا کہنا ہے کہ صدر اوباما بہت زیادہ محتاط ہیں اور انھوں نے بہت زیادہ انتظار کر لیا ہے۔

کانگریس سے تعلق رکھنے والے ایک درجن سے زائد ارکان صدر اوباما سے جمعے کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔

انتظامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے انھیں دوپہر کے کھانے پر بلایا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کانگریس کے ان ارکان کے ساتھ فوری طور پر کام شروع کرنا چاہتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق اس مقصد کے لیے صدر باراک اوباما نے اپنے لہجے میں نرمی بھی اختیار کر لی ہے۔

صدر اوباما ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دے دیں گے۔

تاہم بدھ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اوباما کا کہنا تھا کہ وہ دولتِ اسلامیہ کہ کے خلاف کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری لیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’دنیا کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہم متحد ہیں۔‘

اس سے پہلے وسط مدتی انتخابات کے بعد صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ وہ ’ آئندہ دو برس کو زیادہ سے زیادہ کار آمد بنانے کے لیے نئی کانگریس کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

اسی بارے میں