عراق:’خودکش حملہ آور برطانوی شہری تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption کبیر احمد ڈاربی کے علاقے کے رہنے والے ہیں اور انھیں ابو سمیع البرطانی بھی کہا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عراق میں ایک خود کش بم حملے کرنے والے شخص کی شناخت ایک برطانوی شہری کبیر احمد بتائی جا رہی ہے۔

برطانوی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اسے ’عراق میں ایک برطانوی شہری کی موت کی خبر کے بارے میں علم ہے۔‘

کبیر احمد ڈاربی کے علاقے کے رہنے والے ہیں اور انھیں ابو سمیع البرطانی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اطلاعات یہی ہیں کہ بن دھماکے میں خود کش کبیر احمد نے ہی کیا تپا، تاہم ابھی تک سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے کبیر احمد کو عراق کے شمالی علاقے بیجی میں ایک اعلیٰ پولیس اہلکار کو قتل کرنے والے بم حملے کے حملہ آوروں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

یہ بم حملہ جمعے کو کیا گیا تھا جس میں ایک بارود سے بھرے ٹرک کو لیفٹیننٹ جنرل فیصل ملک زیمل کی قافلے میں مارا گیا تھا جو شہر میں فوج کا معائنہ کر رہے تھے۔

اس حملے میں جنرل فیصل زیمل کے علاوہ سات دوسرے پولیس اہلکار بھی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ حملے میں 15 لوگ زخمی بھی ہوئے۔

برطانیہ عراق میں اپنا عسکری کردار بڑھا رہا ہے اور دولت اسلامیہ کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے عراقی فوج کی مدد کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ عراقی فوج کی مدد کے لیے امریکہ بھی اپنے 1500 غیر جنگجو فوجی بھیج رہا ہے۔

برطانوی فوجی ماہرین بھی کچھ ہفتوں میں عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک امریکی ہیڈ کوارٹر میں جا کر کام کریں گے۔

عراق اور شام کے بڑے حصے دولت اسلامیہ کے قبضے میں ہیں۔

حکومت کی جانب سے فوجی کارروائی کی منظوری کے چار دن بعد 30 ستمبر سے برطانیہ نے دولت اسلامیہ پر فضائی حملے شروع کر رکھے ہیں۔

اسی بارے میں