امریکہ: پہلی سیاہ فام خاتون اٹارنی جنرل نامزد

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’میں شہریوں، ہماری آزادی، ہمارے حقوق اور اس عظیم قوم کی حفاظت کے لیے کام کروں گی: لوریٹا لِنچ

امریکی صدر براک اوباما نے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کی جگہ نیو یارک کی سرکاری وکیل لوریٹا لِنچ کو نیا اٹارنی جنرل نامزد کیا ہے۔

اگر سینیٹ نے اس نامزدگی کی تصدیق کی تو لوریٹا لِنچ پہلی افریقی نسل کی امریکی خاتون ہوں گی جو امریکی محکمہ انصاف کی سربراہ بنیں گی۔

صدر اوباما کا کہنا ہے کہ لوریٹا امریکہ میں فوجداری انصاف کی اصلاحات میں نیا ’جذبہ اور سمجھداری‘ لیکر آئیں گی۔

ایرک ہولڈر پہلے سیا فام امریکی مرد تھے جنھوں نے اٹارنی جنرل کا عہدہ سنبھالا تھا۔انھوں نے چھ ہفتے قبل اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

لوریٹا کی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ ’امریکہ میں لوریٹا شاید وہ پہلی وکیل ہیں جو غنڈوں، منشیات کا دھندا کرنے والوں اور دہشت گردوں کے خلاف لڑتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے دل موہ لینے والے رویے کے لیے بھی مشہور ہیں۔‘

ان کی نامزدگی پچھلی منگل کو امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں سینیٹ کا کنٹرول ریپبلکنز کے ہاتھوں میں آنے کے بعد منظر عام پر آئی ہے۔

لوریٹا ریاست نارتھ کیرولینا کی رہنے والی ہیں اور ہارورڈ یونیورسٹی سے تربیت یافتہ وکیل ہیں۔ ان کی نامزدگی مستعفی ہونے والے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کی۔

ان کا تجربہ شہری حقوق اور کارپوریٹ فراڈ دونوں میں ہے۔

ایرک ہولڈر نے محکمہ انصاف کی قیادت چھ سال سے کی اور صدر اوباما نے انھیں ’ عوام کے وکیل‘ قرار دیا۔

تاہم، ایرک اکثر بندوقوں کی ملکیت اور ہم جنسی شادیوں جیسے کئی مسائل پر ریپبلکن سےاختلاف کرتے تھے۔

اسی بارے میں