ابو بکر البغدادی کے بعد کیا ہوگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولتِ اسلامیہ ابوبکر البغدادی کی شناخت بنانے پر خاصی سرمایہ کاری کر چکی ہے

گذشتہ جمعے کو عراقی شہر موصل کے قریب دولتِ اسلامیہ کے قافلے پر امریکی فضائی حملے کے بعد سے عالمی ذرائع ابلاغ میں افواہ گردش کر رہی ہے کہ تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی ہلاک یا زخمی ہو گئے ہیں۔

اس افواہ پر دولتِ اسلامی کی بظاہر خاموشی اس بات کا ثبوت ہو سکتی ہے کہ حملے میں البغدادی کو کچھ نہ کچھ ضرور ہوا ہے۔ لیکن اس سال کے ابتدائی مہینوں میں جب یہ خبر آئی تھی کہ تنظیم کے ترجمان ابو محمد العدنانی ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں تب بھی دولت اسلامی کی جانب سے سرکاری سطح پر اسی قسم کے رویے کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا تھا کہ یہ خبر غلط تھی۔

اگرچہ معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر العدنانی کے نام سے منسوب اکاؤنٹ سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ابوبکر البغدادی تیزی سے رو بصحت ہو رہے ہیں، لیکن یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ یہ ٹوئٹر اکاؤنٹ جعلی ہے کیونکہ اس اکاؤنٹ میں خود العدنانی کے بارے میں ایک مقام پر صیغہ غائب میں بات کی گئی ہے۔

اگر یہ اکاؤنٹ حقیقی ہوتا تو ٹوئٹر چلانے والے اس دولتِ اسلامیہ کے دیگر سرکاری اکاؤنٹس کی طرح اس اکاؤنٹ کو بھی بند کر چکے ہوتے۔

قطع نظر اس بات کے کہ آیا البغدادی زندہ ہیں یا ہلاک ہو گئے ہیں، یہ جائزہ لینا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اگر البغدادی مارے جاتے ہیں تو دولتِ اسلامیہ پر کیا اثرات ہوں گے۔

جون 2014 میں ’خلافت‘ کے قیام اور ابو بکر البغدادی کی جانب سے اپنے لیے ’خلیفہ‘ کے لقب کے اعلان سے اب تک دولت اسلامیہ دنیا کی نظروں میں البغدادی کی ایک بڑی شبیہ بنانے پر خاصی سرمایہ کر چکی ہے۔

البغدادی نہیں تو کون؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس تنظیم کی ہر سطح پر تمام لوگ البغدادی ہی کو حرف آخر نہیں مانتے

دولت اسلامیہ فی العراق و شام سے ’دولت اسلامیہ‘ بننے پر اس تنظیم نے ’خلافت کا وعدہ‘ پورا کرنے جیسے نعروں کے علاوہ ’البغدادی کے ہاتھ پر بیعت‘ جیسے نغمے بھی جاری کیے تھے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دولت اسلامیہ کی جانب سے خلافت کے قیام کے اعلان اور ابوبکر البغدادی کی بطور رہنما شناخت کے درمیان تعلق بہت گہرا ہے۔ اس اعلان سے قبل البغدادی کی کوئی تصویر سامنے نہیں آئی تھی اور لوگوں نے صرف ان کے صوتی پیغامات ہی سن رکھے تھے۔

البغدادی کے حامیوں کی نظر میں البغدادی کے خلافت کے صحیح حقدار ہونے میں ان کے اس دعویٰ نے بھی بہت مدد کی کہ ان کا حسب و نسب پیغمبرِ اسلام کے قبیلے سے ملتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی بڑی شبیہ میں اس بات کا بھی خاصا عمل دخل ہے کہ وہ شریعت اور علوم اسلامی پر عبور رکھتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ البغدادی کی موت کی صورت میں تنظیم کے لیے ان کا بدل تلاش کرنا آسان نہیں ہوگا۔دولت اسلامیہ میں بظاہر ایسا کوئی دوسرا رہنما موجود نہیں ہے جسے یہ اعزاز حاصل ہو کہ وہ بھی اسلامی قوانین پر البغدادی جتنا عبور رکھتا ہو۔

اس کے علاوہ ابوبکر البغدادی کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ ان کی رہنمائی میں یہ تنظیم شام و عراق کے چند چھوٹے قصبوں سے نکل کر ایک وسیع علاقے میں پھیل کر بین الاقوامی تنظیم بن گئی، ایک ایسی تنظیم جس نے ’مملکت‘ کہلوانے کے کئی لوازمات پورے کر لیے ہیں۔

تنظیم کی صفوں میں اس کی مجلس شوریٰ کے ارکان جیسے سینیئر افراد کی کمی نہیں جو البغدادی کے خلافت کے دعوے کی توثیق کرتے ہیں، تاہم عام لوگ ان رہنماؤں کو نہیں جانتے۔

اس بات کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں کہ تنظیم العدنانی جیسے سینیئر رہنما یا عمر شیشانی اور شاکر ابو وہاب جیسے کمانڈروں کو البغدادی کی موت کی صورت میں اپنا اگلا رہنما بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔

جیتنے والا گھوڑا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولت اسلامیہ ہی وہ ’جیتنے والا گھوڑا‘ ہے جو بطور جماعت خلافت کا دعویٰ کر سکتا ہے

اس کا مطلب ہے کہ اگر دولت اسلامیہ وقت آنے پر فوراً کسی دوسرے شحض کو البغدادی کی جگہ اپنا امیر نہیں بنا پاتی تو ان کی موت سے تنظیم کا شیرازہ بکھر سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس تنظیم کی ہر سطح پر تمام لوگ البغدادی کو ہی حرف آخر نہیں سمجھتے۔ جماعتِ انصار الاسلام اور اس جیسے کئی جہادی گروہ دولت اسلامیہ کی حمایت اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے خیال میں ان کی وفاداری اس تنظیم کے ساتھ ہے، نہ کہ البغدادی کی ذات کے ساتھ۔ ان گروہوں کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ ہی وہ ’جیتنے والا گھوڑا‘ ہے جو بطور جماعت خلافت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔

اگر دیگر جہادی گروہوں اور تنظیموں کی نظر میں دولتِ اسلامیہ اپنے اس مقام سے گر جاتی ہے جہاں وہ ابو بکر البغدادی کے ہاتھ پر بیعت نہیں کروا سکتی، تو اس تنظیم کا ’مسلمانوں کا خلیفہ‘ ہونے کا دعویٰ بھی کمزور پڑ جائے گا۔ اس موقعے پر دولت اسلامی کے کئی حامی گروہ اس تنظیم کو چھوڑ کر اپنے اپنے گروہوں میں واپس لوٹ جائیں گے۔

اسی بارے میں