سعودی عرب میں ایک اور پاکستانی شہری کا سرقلم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب میں سرقلم کرنے کی سزا کے خلاف احتجاج بھی ہو چکے ہیں

سعودی عرب میں منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں ایک ماہ کے دوران ساتویں پاکستانی شہری کا سر قلم کر دیا گیا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے سعودی عرب کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا کہ جمعرات کو ہیروئن سمگل کرنے کے جرم میں ایک پاکستانی شہری نیاز محمد کا سر قلم کر دیا گیا۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاکستانی شہری کو ہیروئن کی بڑی مقدار سمگل کرنے کی کوشش کرنے پر قصور وار ٹھہراتے ہوئے موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

سعودی عرب میں بین الاقوامی خدشات کے باوجود رواں سال 67 غیر ملکی شہریوں کو موت کی سزا دی گئی ہے۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق حکومت منشیات کی روک تھام کے لیے کوششیں کر رہی ہے کیونکہ یہ معاشرے کے لیے اور انفرادی طور پر شدید نقصان دہ ہے۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کے ایک ماہر نے ستمبر میں سعودی عرب میں پھانسی کی سزا پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

ماورائے عدالت ہلاکتوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر کرسٹوف ہینز نے سعودی عرب میں مقدموں کی سماعت کو انتہائی غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بعض اوقات تو ملزموں کو اپنے دفاع کے لیے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔

انھوں نے کہا تھا کہ ملزمان سے تشدد کے ذریعے اعتراف جرم کرایا جاتا ہے۔

سعودی عرب کے شرعی نظام میں ریپ، قتل، مسلح ڈکیتی اور منشیات کی سمگلنگ کا جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا دی جاتی ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں گذشتہ سال 78 افراد کے سر قلم کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں