طلاق پارٹیوں کا پھلتا پھولتا کاروبار

Image caption اور تو اور، شوٹننگ رینج والے بھی طلاقوں سے پیسے بنا رہے ہیں

ایک دردناک طلاق کے قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد وینڈی لوئس نے فیصلہ کیا کہ اس خوشی کو منانے کا ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ اپنے جوڑے کو گولیوں سے چھلنی کر دے جو اس نے شادی کے دن پہنا تھا۔

یہ کام کرنے کے لیے وینڈی نے اپنی سہیلیوں کو اکٹھا کیا، اپنا عروسی کا سفید جوڑا اٹھایا اور اگلی پرواز پر سوار ہو کر چار دنوں کی چھٹی منانے ریاست نویڈا کے مشہور شہر لاس ویگس پہنچ گئیں۔

خواتین کے اس گروپ کے لاس ویگس پہنچنے کے بعد ان کے ’شوٹنگ رینج‘ پہنچنے کے انتظامات مکمل کرنے میں شہر کی ایک چھوٹی سی کمپنی نے زیادہ وقت نہیں لیا۔ یہ کمپنی لاس ویگس میں تیزی سے پھیلتے ہوئے اس کاروبار کا حصہ ہے جس میں کمپنیاں اپنے صارفین کے لیے ’طلاق پارٹیاں‘ منعقد کرنے کا کام کرتی ہیں۔

کہتے ہیں کہ لاس ویگس کی کہانیاں لوگ اسی شہر میں چھوڑ آتے ہیں، تاہم وینڈی لوئس کی طلاق پارٹی کا اہتمام کرنے والی 51 سالہ گلنڈا روڈز نے بخوشی یہ کہانی ہمیں سنائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عروسی جوڑے پر وینڈی کی گولیوں کی بوچھاڑ اور ان کا غصہ دیدنی تھا

گلنڈا روڈز کے بقول ’مِس لوئس نے اس سے پہلے کبھی بندوق کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا، لیکن وہ اپنا عروسی کا جوڑا لے کر شوٹنگ رینج پہنچ گئیں اور بڑے اطمینان سے یہ جوڑا ایک جگہ لٹکا دیا۔‘

’آہ، اگر آپ اس وقت وینڈی کی شکل دیکھتے تو آپ کو پتہ چلتا کہ اپنے شادی کے جوڑے پر گولیاں برساتے وقت وہ کیسے غصہ نکال رہی تھی۔‘

گلنڈا روڈز ایک عرصے سے لاس ویگس میں مختلف تقریبات کا انتظام کرنے کا کام کر رہی ہیں، تاہم کتنے سالوں تک ان کام نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے گروپوں کے لیے صرف ایسی پارٹیوں کا انتظام کرنا ہی ہوتا تھا جن میں لڑکے اپنے دوستوں اور لڑکیاں اپنی سہلیوں کے ساتھ شادی سے ذرا پہلے اپنی کنوارے پن کی آزادی کی آخری شامیں دھوم دھام سے منانے روشنیوں کے اس شہر آتے ہیں۔

لیکن پچھلے کچھ عرصے سے گلنڈا اور ان کی کمپنی جیسی کمپنیوں کو طلاق پارٹیوں کی بڑی تعداد منعقد کرنا پڑ رہی ہے۔

امریکہ میں شادیوں اور طلاقوں کے مختلف اعداد و شمار پائے جاتے ہیں، تاہم زیادہ تر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ آج کل امریکہ میں آدھی شادیاں طلاق پر ختم ہو جاتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گلنڈا کا طلاق پارٹیوں کا کاروبار روز بروز ترقی کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اکثر خواتین ’ کُوڑے کے ساتھ یہ بھی لے جاؤ‘ والا کیک سب سے زیادہ پسندید کرتی ہیں

طلاق لینے والی خواتین گولیوں کی بوچھاڑ سے غصہ نکالنے کے علاوہ گلنڈا اور ان جیسے دوسرے پارٹی آرگنائزروں سے عموماً جن فرمائشوں کا اظہار کرتی ہیں ان میں نائٹ کلبوں میں رات بھر ناچ گانا، اچھے ریستورانوں میں جانا، گولف کھیلنا اور اپنے دوستوں کے نیم برہنہ ڈانس دیکھنا شامل ہے۔

جو لوگ طلاق کے بعد ’دوبارہ کنوارے پن کی دنیا میں چھلانگ‘ لگا داخل ہونا چاہتے ہیں ان کے لیے گلنڈا جہاز سے فضا میں چھلانگ یعنی سکائی ڈائیونگ کا اہتمام بھی کرتی ہیں۔

وہ خواتین جو طلاق کی خوشی کو زیادہ دھوم دھام کے ساتھ نہیں منانا چاہتے، ان کے لیے کمپنیاں خصوصی ’طلاق کیک‘ ان کے ہوٹل بھجوا دیتی ہیں جو وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ کاٹ کے آزاد زندگی کی خوشی مناتی ہیں۔

ریاست فلوریڈا میں ایک مشہور بیکری کو ہر ماہ زیادہ سے زیادہ ایک ’طلاق کیک‘ کا آرڈر ملتا تھا، لیکن یہ بیکری اب ہر ماہ تین چار طلاق کیک فروخت کر رہی ہے۔ ان کیکوں پر مختلف ڈیزائن بنائے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption کئی لوگ طلاق پر خوش نہیں ہوتے، لیکن اپنی پارٹی کے لیے وہ بھی کیک کا آرڈر ضرور دیتے ہیں

بیکری کی مالکہ کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ ایک مرد صارف نے فرمائش کی کہ میں کیک پر گولف کا کھلاڑی بناؤں جس کے نیچے لکھا ہو ’آخر کار آزاد، اب میں گولف کھیلنے جا رہا ہوں۔‘

’لیکن زیادہ تر فرمائش یہی ہوتی ہے کہ میں وہ کیک بناؤں جس کے اوپر ایک خاتون ایک مرد کو ٹانگ سے گھسیٹ کر باہر پھینک رہی ہوتی ہے اور نیچے لکھا ہوتا ہے:’ کُوڑے کے ساتھ یہ بھی لے جاؤ۔‘