’دولتِ اسلامیہ شام میں دہشت نافذ کر رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے رواں برس جون سے شام اور عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ شام میں جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ ’دہشت کی حکمرانی‘ نافذ کر رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی یہ رپورٹ 300 عینی شاہدین کے انٹرویوز پر مشتمل ہے۔

رپورٹ کے مطابق دولتِ اسلامیہ عام شہریوں پر ’شدید تشدد‘ کر رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق شام میں سگریٹ پیتے ہوئے پکڑے جانے والے مردوں کی انگلیاں کاٹ دی جاتی ہیں جبکہ مردوں کا علاج کرنے کے الزام پر ایک ڈینٹسٹ خاتون کا سر سرِ عام کاٹ دیا گیا۔

خیال رہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے رواں برس جون سے شام اور عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے تفتیش کاروں کی رپورٹ ’دہشت کی حکمرانی، شام میں دولتِ اسلامیہ کے زیرِ اثر‘ کے نام سے جاری کی گئی ہے۔

یہ دولتِ اسلامیہ کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی پہلی رپورٹ ہے جس میں ادارے نے اس تنظیم کی حکمتِ عملی پر قریب سے جائزہ لیا ہے۔

اس رپورٹ میں ان مردوں، خواتین اور بچوں کے انٹرویوز شامل ہیں جو شام سے بھاگ کر آئے ہیں یا پھر ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ میں دولت اسلامیہ کی تصاویر اور ویڈیوز کا بھی مشاہدہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق دولتِ اسلامیہ شہریوں کو سرِ عام پھانسیاں دیتی ہے اور ’لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے لاشوں کو لٹکا دیا جاتا ہے۔‘

امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر اس سال اگست سے بمباری کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں