’دولتِ اسلامیہ کے خلاف طویل اور مشکل مہم درپیش ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکی حکام کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی پر امریکہ روزانہ 80 لاکھ ڈالر خرچ کر رہا ہے

اعلیٰ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں رنگ لا رہی ہیں لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک طویل اور مشکل مہم کا سامنا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی کارروائی کے تین ماہ کی تکمیل پر امریکہ کے وزیرِ دفاع چک ہیگل نے کانگریس کو بتایا ہے کہ شدت پسندوں کی پیش قدمی روک دی گئی ہے جبکہ کچھ علاقوں میں جنگجوؤں کو پسپا بھی کیا گیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے بدلتے رنگ

امریکی کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں چک ہیگل کا کہنا تھا کہ امریکی اور اتحادی افواج کے فضائی حملوں نے تنظیم کے قائدین اور اس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو نشانہ بنایا ہے۔

تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ اب بھی عراق اور شام کے بڑے حصے پر شدت پسند تنظیم کا اثرونفوذ باقی ہے۔

کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل جیک ڈیمپسی نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے پاس اندازاً 31 ہزار جنگجو ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ان کا یہ بھی کہنا تھا عراق میں اس وقت 1400 امریکی فوجی موجود ہیں جبکہ مزید 1500 فوجی وہاں بھیجے جا رہے ہیں لیکن تاحال عراق میں موجود امریکی فوجی صرف مشاروتی اور تربیتی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

جنرل ڈیمپسی نے کہا کہ امریکہ مزید پیچیدہ کارروائیوں میں عراقی افواج کی مدد کے لیے امریکی فوجی بھیجنے پر غور کر رہا ہے تاہم امریکی صدر براک اوباما فی الحال اس کے حق میں نہیں۔

فوج کے سربراہ نے بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی پر امریکہ روزانہ 80 لاکھ ڈالر خرچ کر رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے ہی امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے یہ مہم جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے مزید ساڑھے پانچ ارب ڈالر جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ ولس کے مطابق عراقی فوجیوں کی مدد کے علاوہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں امریکی حکمتِ عملی کا اہم حصہ تنظیم کی مالی مدد کا خاتمہ کرنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس وقت دولتِ اسلامیہ مشرقی شام سے حاصل شدہ تیل کی فروخت سے روزانہ دس لاکھ ڈالر کما رہی ہے۔

اسی بارے میں