حالات دولتِ اسلامیہ کے حق میں نہیں رہے: جنرل ڈیمپسی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنرل ڈیمپسی نے عراق میں موجود امریکی فوجیوں سے بھی ملاقات کی

امریکی برّی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا ہے کہ عراق میں حالات شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے حق میں نہیں رہے لیکن اس کے خلاف جنگ کئی برس تک چل سکتی ہے۔

انھوں نے یہ بات سنیچر کو بغداد میں امریکی سفارتخانے میں عراق میں تعینات امریکی فوجیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ ’دولتِ اسلامیہ کے جنگجو کوئی دس فٹ اونچی مخلوق نہیں بلکہ وہ تو ایسے بونوں کا گروہ ہے جو انتہائی سخت گیر اور شدت پسندانہ خیالات کا مالک ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ صرف اپنے بل بوتے پر اس گروپ کو شکست نہیں دے سکتا۔

جنرل ڈیمپسی کا کہنا تھا کہ یہ جنگ برسوں تک چل سکتی ہے اور اس میں کامیابی کا انحصار عراقی حکومت کی جانب سے سنّی اور شیعہ آبادی کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے پر ہوگا۔

امریکی برّی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی سنیچر کو ایک ایسے وقت میں عراق پہنچے ہیں جب عراقی فوج نے ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری پر تقریباً پانچ ماہ سے قابض دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو پسپا کر دیا ہے۔

یہ جنرل مارٹن ڈیمپسی کا یہ غیر اعلانیہ دورہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ اور اتحادیوں کی کارروائی کے آغاز کے بعد ان کا پہلا دورۂ عراق ہے۔

دورۂ عراق کے دوران جنرل ڈیمپسی نے بغداد میں عراقی وزیراعظم حیدر العبادي سے بھی ملاقات کی جس کے بعد عراق کے نیم خود مختار کرد علاقے کے دارالحکومت اربیل گئے ہیں۔

وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے عراقی اور کرد جنگجوؤں کے لیے امریکی مدد میں اضافے کی تیاری کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں پر امریکی فضائی حملوں کے موثر ہونے کے معاملے کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بیجی ریفائنری کے اردگرد کئی دن سے شدید لڑائی ہو رہی تھی

اس وقت امریکی فوج کے ایک ہزار سے زیادہ ارکان عراق میں غیر عسکری خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ امریکی صدر براک اوباما نے عراقی فوج کی مدد کے لیے مزید 1500 فوجی بھیجنے کی منظوری دی ہے۔

ادھر عراقی حکام کے مطابق ملکی فوج نے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو دارالحکومت بغداد کے شمال میں واقع قصبے بیجی کے بعد وہاں واقع تیل صاف کرنے کے کارخانے سے بھی نکال دیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے بیجی اور وہاں واقع عراق میں تیل صاف کرنے والے والے سب سے بڑے کارخانے بیجی جون میں قبضہ کیا تھا۔

عراقی افواج نے منگل کو ملک کے تیل صاف کرنے کے سب سے بڑے کارخانے بیجی کے زیادہ تر حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا تاہم انھوں نے اپنی پیش قدمی کو روک دیا تھا۔

صوبہ صلاح الدین کے گورنر رعد الجبوری نے سنیچر کو خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’عراقی فوج ریفائنری کے دروازے تک پہنچ چکی ہے۔‘

ادھر روئٹرز نے ایک عراقی ٹی وی کے حوالے سے کہا ہے کہ فوجی ریفائنری کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار ہیو سائکس کے مطابق بیجی ریفائنری اور قصبے کو دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے پاک کرنے سے عراقی فورسز شدت پسندوں کی کلیدی سپلائی لائن کاٹنے کے قابل ہو جائیں گی۔

خیال رہے کہ جمعے کو عراقی جنرل عبدالوہاب نے سرکاری ٹی وی کو بتایا تھا کہ ’قصبے کو مکمل طور پر آزاد کروا لیا گیا ہے۔‘

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی عراقی اور کرد افواج کی مدد کے لیے دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی میں مصروف ہیں اور گذشتہ دو مہینوں میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر سینکڑوں فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں