جی 20 اجلاس: عالمی معیشت کے فروغ، ایبولا کے خاتمے کا عہد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اپنی تقریر میں آسٹریلوی وزیر اعظم ایبٹ نے کہا کہ معاشی اصلاحات سے لاکھوں روزگار فراہم ہوں گے

آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ کے اختتامی کلمات سے برزبین میں جاری دو روزہ جی 20 کا سربراہی اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا جس میں رکن ممالک کے رہنماؤں نے معیشت میں ترقی کا عہد کیا۔

ٹونی ایبٹ نے کہا کہ اس عہد کی پابندی کی گئی تو عالمی معیشت میں آئندہ پانچ برسوں میں2.1 فی صد ترقی ہو گی جو کہ ہدف سے زیادہ ہے۔

ولادی میر پوتن جی 20 سربراہی اجلاس چھوڑ کر چلے گئے

اس سے قبل روسی صدر ولادی میر پوتن جی 20 سربراہی اجلاس میں باضابطہ اعلامیے کے جاری کیے جانے سے پہلے ہی روانہ ہوگئے۔ انھوں نے کہا کہ روس کا سفر طویل ہے اور وہ کچھ نیند کرنا چاہتے ہیں۔

سنیچر کو کینیڈا کے وزیراعظم سٹیفن ہارپر، امریکی صدر براک اوباما اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے یوکرین کے سلسلے میں روس پر سخت تنقید کی تھی تاہم روسی صدر نے اس کانفرنس کو ’تعمیری اور مفید‘ کہا ہے۔

سربراہی اجلاس کا میزبان ہونے کے ناطے آسٹریلیا نے اجلاس کا فوکس معاشی موضوعات پررکھنے کی کوشش کی جو کہ اس اجلاس کا تھیم تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ na
Image caption جی 20 میں شامل ہونے والے سربراہان مملکت کی جانب سے جاری بیان میں اس بات کا عہد کیا گیا ہے کہ مغربی افریقہ میں ایبولا کے پھیلاؤ کو ختم کرنے کے لیے ’جتنا کر سکتے ہیں کریں گے‘

اس کے ساتھ ہی ماحولیات کی تبدیلی اور یوکرین کے تصادم پر بھی خاطر خواہ توجہ دی گئی۔

امریکی صدر براک اوباما نے روس کی جانب سے ان کے خیال میں یوکرین کو غیر مستحکم کیے جانے کی کوشش کا اکٹھے جواب دینے کے سلسلے میں یورپی رہمناؤں سے ملاقات کی۔

صدر اوباما نے کہا کہ صدر پوتن ’بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، یوکرین میں علیحدگی پسندوں کو بھاری اسلحہ فراہم کر رہے ہیں‘ اور منسک معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ روس کی ’معاشی تنہائی‘ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مسٹر پوتن اپنا راستہ نہیں بدلتے۔

اپنی تقریر میں آسٹریلوی وزیر اعظم ایبٹ نے کہا کہ معاشی اصلاحات سے روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے۔

انھوں نے عالمی انسانی قوت میں خواتین کی شمولیت میں اضافے کی بات کہی اور کثیر ملکی کمپنیوں کے ذریعے ٹیکس نہ ادا کرنے پر بھی بات کی۔

امریکہ اور یورپی رہنماؤں کے دباؤ میں آ کر اجلاس کے اخیر میں جاری اعلامیہ میں ماحولیاتی تبدیلی پر بھی مضبوط اور موثر اقدام کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روسی صدر کو یورکرین پر سخت تنقید کا سامنا رہا اور وہ قبل از وقت اپنے ملک کے لیے روانہ ہو گئے

اس سے قبل اس سربراہی کانفرنس میں ماحولیات کی تبدیلی کو شامل نہ کرنے پر ٹونی ایبٹ کی تنقید پر گئی تھی۔

دوسری جانب امریکی صدر نے جاپان اور آسٹریلیا کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور ساؤتھ چائنا سی میں بحری تنازعات کے پرامن حل کی اپیل کی ہے۔

انھوں نے سنیچر کو چین کا نام لیے بغیر کوئینزلینڈ یونیورسٹی کے طلبا سے خطاب میں کہا تھا کہ ایشیا کی سکیورٹی کا انحصار بڑے ممالک کی جانب سے چھوٹے ممالک کو ہراساں کرنے پر نہیں بلکہ باہمی اتحاد اور بین الاقوامی قوانین پر ہونا چاہیے۔

دریں اثنا جی 20 میں شامل ہونے والے سربراہان مملکت نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس بات کا عہد کیا گیا ہے کہ مغربی افریقہ میں ایبولا کے پھیلاؤ کو ختم کرنے کے لیے ’جتنا کر سکتے ہیں کریں گے۔‘

اسی بارے میں