’بیٹے کی موت سے ہمارے دل ٹوٹ گئے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 26 سالہ کیسگ مغربی ممالک کے پانچویں شہری ہیں جنھیں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قتل کیا ہے

دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے امریکی مغوی عبدالرحمان کیسگ کے والدین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بیٹے کی موت سے ان کے دل ٹوٹ گئے ہیں۔

عبدالرحمان کیسگ کے والدین ایڈ اور پاؤلا کیسگ نے اپنے بیٹے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھیں کیسگ کے اغوا کاروں کو معاف کرنے میں وقت لگے گا۔

ایڈ اور پاؤلا کیسگ نے پیر کو صحافیوں کو بتایا ’ہمارا پیارا بیٹا اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ ہمارا دل بوجھل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران جس طرح لوگوں نے ہمارے بیٹے کے لیے محبت اور حمایت دکھائی اس سے ہماری ہمت بڑھی ہے۔

مغربی ممالک کے انٹیلیجنس افسران شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی ایک ویڈیو میں دکھائے گئے شدت پسندوں کی شناخت میں مصروف ہیں۔

اس ویڈیو میں ان شدت پسندوں کو امریکی مغوی عبدالرحمان کیسگ اور شام کے 18 قیدیوں کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

26 سالہ کیسگ مغربی ممالک کے پانچویں شہری ہیں جنھیں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قتل کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عبدالرحمان کیسگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا نام اسلام لانے سے پہلے پیٹر کیسگ تھا اور انھیں شام میں گذشتہ سال اغوا کیا گيا تھا

فرانس کے ایک سرکاری وکیل کے مطابق ویڈیو میں ایک شدت پسند فرانس کا شہری ہو سکتا ہے جس کا نام میکسم ہاچارڈ ہے اور اس کی عمر 22 سال ہے۔

اس ویڈیو میں ایک اور شدت پسند کو برطانوی شہری ناسر متھانا بتایا جا رہا تھا جس کی عمر 20 سال ہے تاہم متھانا کے والد کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں دیکھا جانے والا نوجوان ان کا بیٹا نہیں ہے۔

برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ متھانا کے والد نے کہا ہے کہ ویڈیو میں دیکھا جانے والا نوجوان ان کے بیٹے جیسا ہے۔ اس ویڈیو میں 16 دیگر شدت پسند بھی دکھائی دے رہے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جاری کی گئی 16 منٹ کی اس ویڈیو میں ایک کٹے ہوئے سر کے اوپر ایک شدت پسند کھڑا ہے جس کے بارے میں وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ یہ کٹا ہوا سر كاسگ کا ہے۔

اس سے قبل انٹرنیٹ پر جاری ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اپنے زیرِ قبضہ مغوی امریکی امدادی کارکن کیسگ کو قتل کر دیا ہے۔

عبدالرحمان کیسگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا نام اسلام لانے سے پہلے پیٹر کیسگ تھا اور انھیں شام میں گذشتہ سال اغوا کیا گيا تھا۔

اس ویڈیو میں ایک نقاب پوش شخص کو خنجر لہراتے اور امریکی فوجیوں کو بھی اسی انجام کی دھمکی دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ویڈیو میں مبینہ طور پر شامی فوجیوں کے ایک گروپ کے سر قلم ہوتے بھی دکھائے گئے ہیں۔

عبدالرحمان کیسگ کے والدین ایڈ اور پاؤلا کیسگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اپنے بیٹے کی موت سے ان کے دل ٹوٹ گئے ہیں۔

ایڈ اور ان کی اہلیہ نے کہا کہ انھیں اپنے بیٹے پر فخر ہے جو اپنی زندگی انسانیت کو دے گیا اور وہ ’اس کی یاد اور ورثے کو زندہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘

دولتِ اسلامیہ کے اس تازہ ویڈیو میں 18 شامی قیدیوں کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جن کی شناخت فوج کے افسر اور پائلٹ کے طور پر کی گئی ہے۔

ان 18 شامی قیدیوں کو گذشتہ برس اگست میں تبقا ایئر بیس سے گرفتار کیا گیا تھا۔

دولتِ اسلامیہ نے رواں سال اکتوبر میں ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں برطانوی رضاکار ایلن ہیننگ کے قتل کو دکھایا گیا تھا اور اس ویڈیو کا اختتام کیسگ کی موت کی دھمکی پر ہوا تھا۔

دولتِ اسلامیہ اب تک کیسگ کے علاوہ چار مغربی باشندوں کو ہلاک کر چکی ہے جن میں دو برطانوی ایلن ہیننگ اور ڈیوڈ ہینز جبکہ دو امریکی صحافی جیمز فولی اور سٹیون سوتلوف شامل ہیں۔

اسی بارے میں