یہودی عبادت گاہ میں حملہ، شدت پسندوں سمیت چھ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ یروشلم میں یہودیوں کی ایک عبادت گاہ پر حملے کے نتیجے میں دو حملہ آوروں سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق پستول، چھریوں اور چاقوؤں سے لیس دو افراد نے یہودیوں کی عبادت گاہ میں لوگوں پر حملہ کیا۔

پولیس کے بقول دونوں حملہ آور مشرقی یروشلم کے رہائشی فلسطینی تھے۔

اس حملے کے بعد فائرنگ کے نتیجے میں دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا۔

اس حملہ کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کریں گے۔

’یہ حماس اور فلسھینی صدر محمود عباس کی جانب اشتعال انگیزی کا نتیجہ ہے جس کو دنیا بڑے سکون سے نظر انداز کر رہی ہے۔‘

حالیہ مہینوں میں یروشلم میں اس قسم کی پرتشدد کارروائیوں کے بعد کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں اس وقت اردن کے علاقے مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا اور اس قبضے کو بین الاقوامی برداری تسلیم نہیں کرتی ہے۔

علاقے میں فلسطینی شہری امتیازی سلوک کی شکایات کرتے ہیں اور الزام عائد کرتے ہیں کہ علاقے میں یہودی آبادکاروں کی تعداد میں اضافے سے کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب ہے۔

اسی بارے میں