تنقید کے باوجود چین میں عالمی ویب کانفرنس کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین میں سائبر امور کے وزیر لو ویئی نے عالمی انٹرنیٹ کانفرنس سے خطاب کیا

چین میں انٹرنیٹ کے استعمال کی پالیسیوں پر تنقید کے درمیان چینی حکام اور ماہرین حکومت کی ایما پر کرائی جانے والی انٹرنیٹ کانفرنس کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ووژین شہر میں ہونے والی عالمی انٹرنیٹ کانفرنس کا مقصد عالمی سائبر سپیس میں چین کی جانب سے بڑا کردار ادا کرنے کی کوشش ہے۔

واضح رہے کہ چین میں 60 کروڑ انٹرنیٹ صارفین ہیں۔

لیکن انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے متنبہ کیا ہے کہ چین میں انٹرنیٹ کی آزادی مستقل طور پر خطرے سے دو چار رہی ہے۔

کانفرنس کے منتظمین سائبر سپیس ایڈمنسٹریشن آف چائنا کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس میں عالمی انٹرنیٹ گورننس، سائبر سکیورٹی اور موبائل انٹرنیٹ پر اجلاس ہوں گے۔

سائبرسپیس انتظامیہ چین میں انٹرنیٹ کا نگراں ادارہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption الیکٹرانک تجارتی کمپنی علی بابا کے بانی جیک ما نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’چینی انٹرنیٹ نے چینی سماج اور معیشت کو متاثر اور تبدیل کیا ہے‘

اس کانفرنس میں چین کی ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کے علاوہ ایپل، ایمازون اور مائیکروسافٹ جیسی عالمی سطح کی کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں۔

چینی حکومت ہزاروں غیر ملکی ویب سائٹوں کو بلاک کرتی رہتی ہے جن میں خبروں کی سائٹوں کے علاوہ فیس بک اور ٹوئٹر جیسی سماجی رابطے کی سائٹیں بھی شامل ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل میں چین کے محقق ولیم نی نے اجلاس سے پہلے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ چین انٹرنیٹ کے اپنے داخلی ضوابط کو عالمی سطح پر تمام ویب سائٹوں پر کنٹرول کے ماڈل کے طور پر لاگو کرنا چاہتا ہے۔

’یہ ہر اس شخص کے لیے لمحۂ فکریہ ہے جو آن لائن آزادی کی قدر کرتا ہے۔‘

اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے چین کے سب سے بڑے عہدے دار نائب وزیراعظم ما کائی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک کو انٹرنیٹ پر جاری دہشت گردانہ سرگرمیوں اور سائبر حملوں کے خلاف مل کر کام کرنا چاہیے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انھوں نے کہا: ’انٹرنیٹ سکیورٹی سے متعلق مختلف ممالک کے خدشات کا تمام ممالک کو احترام کرنا چاہیے اور باہمی تعاون کو تقویت فراہم کرنا چاہیے۔‘

اے ایف پی کے مطابق الیکٹرانک تجارت کی کمپنی علی بابا کے بانی جیک ما نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’چینی انٹرنیٹ نے چینی سماج اور معیشت کو متاثر اور تبدیل کیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے اہلکاروں کی ایک جھلک

چینی کمپنیاں بشمول علی بابا، ٹین سینٹ اور بائیدو اب عالمی بڑی کمپنیوں گوگل اور امیزون کو بھرپور ٹکر دے رہی ہیں۔

اس ہفتے کے اوائل میں انٹرنیٹ ہوسٹ کرنے والی ایک اہم کمپنی ایج کاسٹ نے شکایت کی تھی کہ چین کی سنسرشپ کے نتیجے میں ان کی ہزاروں سائٹیں اور موبائل اپلیکیشنز جزوی طور پر متاثر ہوئی ہیں۔

بی بی سی چین کے ایڈیٹر کیری گریسی کا کہنا ہے چینی پروپیگنڈا اہلکاروں کو جن مواد پر اختلاف ہوتا ہے اسے سنسر کرنے والوں کی فوج ضائع کر دیتی ہے اور بعض اوقات عدالت ایسے مواد پیش کرنے والے چینی شہریوں کو قید کی سزا بھی سناتی ہے۔

ایمنسٹی کے نی نے کہا کہ ’چین کا انٹرنیٹ کا ماڈل انتہائی سخت ضابطوں پر مشتمل ہے۔‘

نومبر 19 سے 21 تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں شامل ہونے والے افراد کے لیے گوگل اور فیس بک کی سائٹ دستیاب ہوں گی، ویسے عام طور پر یہ سائٹیں چین میں ناقابل رسائی ہیں۔

اسی بارے میں