وہ لباس جس نے عرب دنیا کو چونکا دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Arab Star Academy
Image caption ہیفا وہبی کے اس شو کو 20 لاکھ سے زیادہ افراد نے آن لائن دیکھا

لبنان کی ایک پاپ سٹار ہیفا وہبی کے لباس نے عرب ممالک کے سوشل میڈیا میں بحث چھیڑ دی ہے، اور مصر، اردن اور سعودی عرب کی کئی خواتین نے ہیفا وہبی کے لباس پر تنقید کی ہے۔

ہیفا وہبی نے گذشتہ ہفتے عرب سٹار اکیڈمی میوزک شو میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا اور عرب ممالک میں نشر کیے جانے والے اس شو میں انھوں نے متنازع لباس پہنا تھا۔

ہیفا وہبی پہلے بھی اپنے لباس کی وجہ سے تنازعات میں رہی ہیں۔

ہیفا وہبی کے اس شو کو 20 لاکھ سے زیادہ افراد نے آن لائن بھی دیکھا۔

لنبانی گلوکارہ کے اس شو کی ویڈیو پر کیے جانے والے تبصروں نے عرب ممالک میں خواتین کے لباس کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

کئی عرب خواتین نے اس ویڈیو کو شرمناک قرار دیا ہے۔

یوٹیوب پر کیے جانے والے ایک تبصرہ میں لکھا گیا: ’آرٹ کی بھی کچھ حدود ہیں اور ہیفا نے انھیں پار کر دیا ہے۔‘

عرب ممالک میں خواتین کیا پہن سکتی ہیں اور کیا نہیں پہن سکتی ہیں کے سلسلے میں مختلف ممالک میں مختلف تجاویز ہیں۔

لبنان میں منی سکرٹ اور بکینی پہننا انہونی بات نہیں ہے لیکن سعودی عرب کی خواتین خود کو سر سے پاؤں تک کر ڈھانپ کر رکھتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption ھیفا وھبی پہلے بھی اپنے لباس کی وجہ سے تنازعات میں رہی ہیں

ہیفا وہبی کے لباس پر پہلے بھی تنازع ہو چکا ہے۔

مصر کی ایک خاتون نے ٹوئٹر پر لکھا: ’یہ سچ ہے کہ ہم ان کے اس طرح کے لباس کو دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں لیکن اس حد تک نہیں۔ یہ ناظرین کے لیے صدمے جیسا ہے۔‘

ہیفا وہبی نے ٹویٹ کی کہ وہ یہ جان کر حیران ہیں کہ سٹیج پر ان کا لباس کیسا نظر آ رہا تھا۔

کچھ لوگوں نےہیفا کا دفاع بھی کیا۔ ایک خاتون نے لکھا: ’ہمیں انھیں ایسے لباس میں دیکھنے کی عادت ڈال لینی چاہیے کیونکہ سب کو اپنا لباس منتخب کرنے کی آزادی ہے۔‘

ایک اور خاتون نے ٹویٹ کیا: ’ایسا لباس پہننے والی وہ پہلی یا آخری خاتون نہیں ہیں، وہ اس میں بہت خوبصورت دکھائی دے رہی تھیں۔‘

لبنان کی بلاگر دانا خیر اللہ کہتی ہیں کہ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا کیونکہ عرب ثقافت میں کشمکش چل رہی ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر عورتیں ایسی کپڑے پہنیں گي تو اس سے ثقافت کی غلط نمائندگی ہوگی لیکن مجھے یہ فرق زیادہ لگتا ہے کیونکہ کلبوں میں عرب لڑکیاں اس سے بھی زیادہ عریاں کپڑے پہنتی ہیں لیکن ان پر کوئی غور نہیں کرتا کیونکہ وہاں کیمرے نہیں ہوتے۔‘

ایک تبصرہ میں کہا گیا کہ اس طرح کی خواتین کو دولتِ اسلامیہ بھیجے جانے کی ضرورت ہے۔

اس شو کو نشر کرنے والے مصر کے چینل سی بی سی نے اس پر معافی مانگی ہے۔

ہیفا وہبی نے بھی سٹیج پر لگی روشنیوں کو قصوروار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا لباس اتنا عریاں نہیں تھا۔

انھوں نے کہا: ’میں یہ جان کر حیران ہوں کہ تیز روشنی میں یہ لباس بالکل مختلف نظر آ رہا تھا۔‘